کورونا، بلوچستان کے عوام صوبائی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں
کوئٹہ:ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ،بلوچستان حکومت کی کارکردگی پر لوگوں نے سب سے زیادہ عدم اطمینان کا اظہار کیاہے۔گزشتہ روز ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے کورونا اور اس پر حکومتی رد عمل کے حوالے سے جو رپورٹ جاری کی ہے اس کے مطابق بلوچستان حکومت کی کارکردگی پر لوگوں نے سب سے زیادہ عدم اطمینان کا اظہار کیا۔کمیشن کی رپورٹ کے مطابق کورونا کی وبا کے حوالے سے جو سروے کیا گیا اس میں چاروں صوبائی حکومتوں کے مقابلے میں سندھ کی حکومت کی کارکردگی پر لوگوں کی اطمینان کی شرح سب سے زیادہ ہے۔کمیشن کا کہنا ہے کورونا پر وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر عوام کا رد عمل معلوم کرنے کے لیے ایک سروے کیا گیا جس میں 25 فیصد لوگوں نے حکومتی رسپانس کو موثر قراردیا جبکہ 75 فیصد کی رائے اس کے برعکس تھی۔رپورٹ کے مطابق جن حکومتوں کی کارکردگی سے وہاں کے لوگ زیادہ مطمئن تھے ان میں گلگت بلتستان، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور وفاق کے زیر انتظام اسلام آباد شامل ہیں۔جبکہ چارصوبائی حکومتوں میں سندھ کی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں لوگوں کی اطمینان کی شرح 55.8 فیصد، پنجاب حکومت کے بارے میں 42 فیصد، خیبر پختونخوا حکومت کے بارے میں 29.2 فیصد جبکہ بلوچستان 14.1 فیصد تھی۔اس سروے کے دوران حکومت کے سماجی ردعمل احساس پروگرام کے بارے میں پوچھے جانے والے سوال پر 40 فیصد نے اسے موثر قرار دیا جبکہ 60 فیصد نے اسے غیر موثر قرار دیا۔تاہم صوبائی حکومتوں کی کسی ایسے پروگرام کے میں 22 فیصد کو معلومات تھیں۔ رپورٹ کے مطابق کورونا کے بحران کے دوران خواتین پر تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا۔غیر سرکاری تنظیموں روزن اور دستک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہیلپ لائن پر خواتین پر تشدد کے حوالے سے پہلے کے مقابلے میں آنے والی کالوں کی تعداد دگنی ہوگئی ہے۔جبکہ خواتین کو صحت کے حوالے مسائل میں بھی اضافہ ہوا کیونکہ پہلے جو خواتین ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کر خواتین کوضروری طبی امدادی فراہم کرتی تھیں وہ کورونا کے حوالے سے پابندیوں کی وجہ نہیں جاسکتیں۔رپورٹ میں جیلوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سہولیات کی فقدان کے حوالے سے یہ ہمیشہ سے مختلف بیماریوں کے گڑھ رہے ہیں۔ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ تعداد ہونے کے باعث قیدیوں کے کورونا وائرس سے متائثر ہونے کے خطرات زیادہ ہیں۔کمیشن کا کہنا ہے کہ جسٹس پروجیکٹ پاکستان کے مطابق قیدیوں میں یک ہزار8 سو 14قیدیوں کے کورونا ٹیسٹ پازیٹوآئے جبکہ تین قیدی کورونا سے ہلاک ہوئے۔رپورٹ کے مطابق اس کی شرح 2.3 فیصد ہے لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ قیدیوں کی متاثر ہونے کی شرح اس سے کہیں زیادہ ہو۔رپورٹ میں آن لائن کلاسوں کے حوالے سے بھی مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے آن لائن کلاسوں کے حوالے سے مسائل پر ملک کے طول و عرض میں طلبا نے احتجاج کیا۔رپورٹ کے مطابق یہ مسائل صرف دوردراز کے علاقوں تک محدود نہیں تھے بلکہ شہروں میں بھی یہ طلبا کو درپیش تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پنجاب یونیورسٹی کے طلبا نے آن لائن کلاسز کی بجائے اساتذہ کی جانب سے ای میل کے ذریعے پریزنٹیشن بھیجنے پر احتجاج کیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا کی وبا نے حکومتی اداروں اور حکومتی اشرافیہ پر لوگوں کے اعتماد میں کمی کی ہے۔رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کورونا سے متعلق پالیسی سازی اور فیصلوں میں پارلیمانی نگرانی کے عمل کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔


