کوئٹہ ڈیولپمنٹ پیکج کیلئے دو ہزار ملین سے زائد رقم خرچ کی جارہی ہے، اصغر ترین
کوئٹہ (یو این اے) پبلک اکاونٹس کمیٹی(پی اے سی)کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت ہوا جس میں محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بلوچستان اور بلوچستان ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کے مالی سال 2021-22 کے Appropriation اکانٹس اور مالی سال 2022-23 کے آڈٹ پیراز کی مکمل چھان بین کی گئی چیئرمین کمیٹی نے عوامی فنڈز کے استعمال میں احتساب کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوامی پیسہ ایک مقدس امانت ہے اور اسے انتہائی ذمہ داری اور شفافیت کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری پی اینڈ ڈی کی میٹنگ غیر حاضری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی اے سی کی میٹنگز میں مختلف ڈپارٹمنٹس کے پرنسپل اکانٹنگ آفیسرز کی غیر حاضری محکموں کی سنجیدگی کو ظاہر کرتاہے۔ میٹنگ میں پی اے سی ممبران کے علاوہ سیرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ , سیکرٹری پی اینڈ ڈی ولی محمد بڑیچ,اکانٹنٹ جنرل بلوچستان نصراللہ جان,ڈی جی آڈٹ شجاع علی، ایڈیشنل سیکرٹر پبلک اکانٹس کمیٹی سراج لہڑی، چیف اکاﺅنٹس آفیسر پی اے سید محمد ادریس ایڈیشنل سیکرٹری لا سید نصیر شاہ, ایڈیشنل سیکرٹری پی اینڈ ڈی عیوض علی, پی ڈی کوٹہ سٹی پیکج رفیق احمد بلوچ ,ایم ڈی بی ای ایف پروفیسر شیر زمان ترین و دیگر آفیسرز نے شرکت کی۔کمیٹی نے اس بات پر سخت تاقید کی کہ کوٹہ ڈیولپمنٹ پیکج میں شامل شہر کے مختلف روڈز جس میں سڑکوں کی کشادگی اور خوبصورتی کے لیئے مختص دوہزار ملین سے زاد 2178.77 ملین کی ایک بہت بڑی رقم خرچ کی جارہی ہے جس کو 2020 میں مکمل ہوناتھا جو کہ چند آفیسرز کی نالاقی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوگیا۔ جس کی اخراجات مزید بڑھ رہی ہے جو کہ اس صوبہ کے غریب عوام کے ساتھ ظلم ہے۔ اس پر پی اے سی سخت فیصلہ کریگا اور اگر اسی طرح غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا تو اس کیس کو انویسٹیگیٹنگ ایجنسیز کے حوالہ کرکے متعلقہ آفیسرز کے خلاف سخت تادیبی کارروای عمل میں لای جایگی انھوں اس وقت حیرانگی کا اظہار کیا کہ متعلقہ آفیسرز نے اس بات پر اپنی بے بسی کا اعتراف کیا کہ چند لوگ بندوق کے زور پر دو سالوں سے سرکی روڈ کا کام بند کیا ہوا ہے۔ چیرمین پی اے سی نے کہا کہ یہ عمل کار سرکار میں مداخلت ہے جس سے کوٹہ کے عوام درپدر ہیں اور کوی ان کا پرسان حال نہیں ہے۔ انھوں حکم دیا کہ متعلقہ حکام کوٹہ انتظا میہ سے فوری طور پر رابطہ کرکے پیکج کے بند تمام کام فوری طور شروع کروایں۔ چیئرمین نے محکمہ کو کوئٹہ کے منصوبوں کے بارے میں ایک ماہ کے اندر جامع رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ منصوبے کی تکمیل میں تاخیر ناقابل قبول ہے اور اس کے نتیجے میں عوام کے پیسے کا ضیاع ہوتا ہے۔ چیئرمین نے فنڈز کے مناسب اکانٹنگ اور مفاہمت کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ خود احتسابی اداروں کو شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے اپنے اکانٹس میں مصالحت کرنی چاہیے۔ انہوں نے محکمہ کو ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تمام فنڈز مطلوبہ مقاصد کے لیے استعمال کیے جائیں اور کسی بھی فنڈ کے غلط استعمال کا حساب لیا جائے گا۔ پبلک اکانٹس کمیٹی نے سریاب روڈ پر جاری منصوبوں بالخصوص نامکمل سروس روڈز کی بحالی میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چیئرمین اصغر علی ترین نے بنیادی ڈھانچے کے اس اہم منصوبے کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری طور پر سروس روڈز پر کام دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت کی بلوچستان ایجوکیشن فانڈیشن کے ساتھ ایک الگ اجلاس میں کمیٹی نے گرانٹ اِن ایڈ کے بارے میں سوالات اٹھائے جو کہ مطلوبہ مقصد کے لیے استعمال نہیں کی گئی۔ چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ گرانٹس ان ایڈ کا مقصد پیسے عوامی فلاح و بہبود کے لئے استعمال ہو، نہ کہ غلط استعمال یا انہی پیسوں کو کسی اور مقصد کے لئے استعمال کیا جائے۔ مزید برآں، کمیٹی نے محکمہ کو ہدایت کی کہ اسکولوں کی جانب سے رجسٹریشن کے لیے وصول کی جانے والی فیسوں کی تفصیلی رپورٹ ایک ماہ کے اندر پیش کی جائے۔ چیئرمین نے متنبہ کیا کہ فنڈز کی کسی بھی بے ضابطگی یا غلط استعمال کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور اس کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ چیئرمین نے عوامی پیسے کے استعمال میں احتساب اور شفافیت کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے اجلاس کا اختتام یہ بتاتے ہوئے کیا کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی محکمانہ کھاتوں کی جانچ پڑتال جاری رکھے گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ عوامی رقوم کا موثر استعمال ہو۔


