رحمن بلوچ ان داتا یا ولن
تحریر: انور ساجدی
عبدالرحمن بلوچ ظاہر ہے کہ کوئی تاریخی شخصیت نہیں تھے کہ اس پر عمر مختار جیسی فلم بنائی جائے لیکن وہ ڈکیت بھی نہیں تھے یہ نام ایک لسانی تنظیم نے نفرت کی بنیاد پراسے دیا وہ جرائم کی دنیا کا حصہ بن گئے اور پاکستانی مخصوص میڈیا نے اسے ولن کا روپ دیا اگر وہ ولن ہوتے تو اس کے جنازہ میں ہزاروں افراد شرکت نہ کرتے وہ ”رابن ہڈ“ جیسے تھے یا”گاڈ فادر“کے ان داتا جیسے کردار تھے اس نے صرف سیٹھوں اور سرمایہ داروں پر ہاتھ ڈالا اور لیاری کے ہزاروں مستحقین کا ہاتھ تھاما۔میں نے زندگی میں اسے کبھی نہیں دیکھا کبھی نہیں ملا لیکن اس کی شہرت یا بدنامی ہر جگہ عام تھی باریک بینی سے دیکھا جائے تو عبدالرحمن بلوچ عزیر بلوچ ارشد پپو یام غفار ساسولی جسے کراچی کے پریس نے غفار ذکری کا نام دیا تھا یہ سارے کردار کراچی کی اصل باشندوں کے خلاف ظلم زیادتی اور جبر کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ردعمل تھے چونکہ یہ سارے کردار سیاسی اعتبار سے زیادہ باشعور نہیں تھے اس لئے انہوں نے جرم کا راستہ اختیار چنا۔جب سے یہ لوگ پیدا ہوئے تھے انہوں نے حضرت شاہ کا لکھا ترانہ
دلاں تیر بجن سنا تھا
لیاری کراچی کی ماں اس کا جنم بھومی طویل عرصہ سے کچھ کے خاندان ہارونوں کے زیرتسلط تھا۔شیرو اور دادل اس کے کارندے تھے لیکن1970ءمیں ذوالفقار علی بھٹو نے لیاری پر ڈاکہ مارا جس کے بعد ہر طرف جئے بھٹو کے نعرے گونجنے لگے لیاری نے بھٹو صاحب کو وزارت عظمیٰ تک پہنچا دیا۔
دوسری بار محترمہ بی بی شہید بھی لیاری سے کامیاب ہوکر وزیراعظم بن گئیں ایک مرتبہ موجودہ صدر آصف علی زرداری بھی یہاں سے منتخب ہوئے تھے لیکن بلاول کو لیاری سے دیس نکالا دیا گیا اس کی بے شمار وجوہات ہیں لیکن ایک تو لیاری سے بے اعتنائی بھی تھی لیاری نے جس طرح پیپلزپارٹی سے وفا کی پیپلزپارٹی نے اس کا جواب اپنائیت سے نہیں دیا۔لیاری کے لوگوں کو ان کے جائز خقوق نہیں دئیے گئے انہیں نوکریوں میں حصہ نہیں دیا گیا دو یونیورسٹیاں دی گئیں لیکن لفظ بلوچ کو شجرممنوعہ بنا دیا گیا۔پیپلزپارٹی کے جیالے دلاں تیر بجن کے ترانے پر تو دیوانہ وار رقص کرتے تھے لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ یہ ترانہ حضرت شاہ نے بلوچی زبان میں لکھا ہے اس ترانہ نے پیپلزپارٹی کولاکھوں ووٹ دلائے لیکن اس کا خالق بغیر علاج ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرگیا لیکن کسی نے اس کا حال پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا۔میں نے اگرچہ حال ہی میں ریلیز ہونے والی بھارتی فلم دھریندر نہیں دیکھی لیکن اس کے کچھ کلپ دیکھے ہیں اس میں بتایا گیا ہے کہ پیپلزپارٹی نے کس طرح رحمن ڈکیت کو استعمال کیا اور پھر ایک بدقماش پولیس آفیسر چوہدری اسلم کے ذریعے ایک جعلی مقابلے میں اس کا قتل کروایا۔زرداری کے سابق دوست اور جس دور میں رحمن بلوچ کا قتل ہوا ذوالفقار مرزا نے ایک ٹی وی انٹرویومیں اعتراف کیا تھا کہ رحمن بلوچ کو اس نے مروایاتھا لیکن کسی نے آج تک ذوالفقار مرزا سے نہیں پوچھا کہ آپ نے یہ ماورائے آئین عمل کیوں کیا۔ذوالفقار مرزا اور فریال تالپور نے بعد میں رحمن کے جانشین عزیر بلوچ سے بھی تعلقات رکھے اور ان کے گھرجا کر ایک تقریب میں شرکت کی۔اس تقریب میں عزیر ادبی فریال تالپور کو بلوچی چادر پہناتے ہوئے نظر آتے ہیں ادی فریال تالپور کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ وہ عظیم بلوچ سپوت اور حیدرآباد سازش کیس کے ایک بڑے کردار میر علی بخش خان تالپور کی بہو ہیں انہوں نے اپنی پوری زندگی بلوچ تحریک پر قربان کر دی۔پتہ نہیں کہ دھریندر فلم میں یہ دکھایا گیا ہے کہ نہیں، 18اکتوبر2007ءکو بے نظیر پر جب کارساز پر ٹی ٹی پی افغان طالبان اور ان کے پاکستانی دوستوں نےے جان لیوا حملہ کیا تو رحمن بلوچ نے تن تنہا انہیں گاڑی سے نکال کر بحفاظت بلاول ہاﺅس پہنچایا۔اگر اس دن رحمن بلوچ نہ ہوتے تو بے نظیر کی جان کمپنی باغ راولپنڈی سے پہلے چلی جاتی لیکن رحمن بلوچ کی اس مہربانی کو اس طرح تسلیم نہیںکیا گیا جس طرح کی جانی چاہیے تھی۔بلکہ اس کا صلہ انہیں موت کی صورت میں دیا گیا۔مجموعی طورپر جس طرح لیاری اور کراچی کے مضافات کے لوگوں نے انتہائی نامساعد حالات میں پیپلزپارٹی کو زندہ رکھا عسکری اور لسانی جماعت ایم کیو ایم سے مقابلہ کر کے اسے بچائے رکھا لیکن پارٹی کی بے اعتنائی سے ایک مایوسی پھیل گئی کیونکہ کراچی کی قدیم آبادی پسماندگی پستی تاریکی جہالت اور منشیات کی وبا میں ڈوبی ہوئی تھی اس کی کوئی دستگیری نہیں کی گئی نتیجہ یہ ہوا کہ پارٹی چیئرمین لیاری کی نشست سے ہار گئے ۔ دھاندلی اپنی جگہ لیکن لوگ گھروں سے نکل کر بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے نہیں آئے تھے۔انڈین فلم سے یہ تاثر بنتا ہے کہ لیاری گینگ وار کی سرپرستی پیپلزپارٹی نے کی نبیل گبول کی طرف بھی واضح اشارہ دیا گیا ہے۔
جہاں تک فلم کا تعلق ہے فلم تو ایک ڈرامہ ہوتا ہے اس میں حقائق کم اور فکشن زیادہ ہوتا ہے کیونکہ کمرشل فلم منافع کےلئے بنائی جاتی ہے سو یہ فلم بھی ایک کمرشل فلم ہے لیکن ایک بات ضرور ہے کہ پاکستان کے اذلی دشمن بھارت نے کسی بلوچ کردار پر پہلی بار فلم بنائی ہے عین ممکن ہے کہ آگے چل کر ایسی دیگر فلمیں بھی بنائی جائیں دھریندر تو ایک کریمنل گینگ کی کہانی ہے ہوسکتا ہے کہ سیاسی موضوعات کا انتخاب کیا جائے اسی وجہ سے کہیں نہ کہیں تشویش پائی جاتی ہے اگرچہ دھریندر فلم ایک پروپیگنڈہ ہے اور یہ بھارتی جاسوس کے کارنامے پر مشتمل ہے لیکن فلم کا ہیرو رحمن ڈکیت سے کہتا ہے کہ بھائی مجھے پیسہ نہیں چاہیے بلوچوں کے لئے کچھ کرو کیونکہ بلوچ کو کبھی حقوق نہیں ملے عزت نہیں ملی یہی فلم کا پیغام ہے اگر اس میں صداقت ہے تو ریاست اس کی نفی کرے اور بلوچوں کو وہ عزت دے جس کے کہ وہ مستحق ہیں۔سوشل میڈیا اور تبصرہ نگاروں کے مطابق فلم کے ہیرو تو رنویرسنگھ تھے لیکن ولن اکشے کھنہ چھا گئے اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کا کردار پاورفل تھا اور کوئی مانے یا نہ مانےبلوچ ایک پاور فل کردار ہے اس کی نفی کرنے کے لئے سماجی ارتقائی اور سیاسی مسائل بنتے ہیں جس کے اثرات ریاست کے تمام شعبوں پر پڑتے ہیں ایسے مثبت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے کہ دشمن کو پروپیگنڈا کا موقع نہ ملے بلوچوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے اس کے بے شمار واقعات کراچی جیسے شہر میں رونما ہوچکے ہیں کراچی پریس کلب کے باہر کئی بار بلوچ خواتین کے آنچلوں کو کھینچا گیا ہے اور خواتین کو بھیڑ بکریوں کی طرح پولیس کے ٹرکوں میں دھکیلا گیا ہے۔حالانکہ کراچی میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے اور کراچی شہر میں پیپلزپارٹی کا وجود بلوچوں کے مرہون منت ہے۔اس کے باوجود یہ سلوک سمجھ سے بالاترہے۔پیپلزپارٹی سوچے کہ فارم47 کے انتخابات سے قطع نظر کراچی کے بلوچ رفتہ رفتہ ”دلاں تیر بجن“ کے ترانے سے کیوں ہٹتے جا رہے ہیں وہ سوچے کہ اس کی مسلسل حکومتوں کے باوجود کراچی اور شہر کے مشرقی اور غربی علاقے کیوں بھوک افلاس اور زیادتیوں کے کیوں شکارہیں آخر چوہدری اسلم جیسے کردار ان پر کیوں چھوڑے گئے ہیں یہ جو چوہدری اسلم ہے یہ کوئی چوہدری نہیں تھا بلکہ ضلع ہزارہ کے علاقہ مانسہرہ کا باشندہ تھا اور کراچی میں آکر چوہدری بن گیا آخر کیوں چوہدری اسلم اور راﺅ انوار جیسے کردار پیپلزپارٹی کے لئے محترم اورمقامی آبادی معتوب ہے۔پیپلزپارٹی کو اپنی پالیسیاں تبدیل کرلینی چاہیے اور سندھ کے بلوچوں کو جینے کا حق دینا چاہیے ورنہ پیپلزپارٹی پچھتائے گی اور بہت پچھتائے گی۔
اگر فلم سازوں نے ذوالفقار علی ذوالفی جیسے دانشوروں اور کہانی نویسوں سے رجوع کیا تو پھر فکشن نہیں حقیقی کہانیوں پر فلمیں بنیں گی جس کے نتیجے میں حکمرانوں کو دن میں تارے نظرآجائیں گے۔پیپلزپارٹی میں اچھے انسانوں کی قدر ہوتی تو اکرم بلوچ اور ذوالفی پردیس میں زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہوتے۔ پیپلزپارٹی کے دور میں سندھ میں جو ”کلچرل جیوسائڈ“ ہو رہا ہے وہ قابل برداشت نہیں ہے بہت جلد اس کا منفی ردعمل سامنے آئے گا۔
٭٭٭


