پانی کی مصنوعی قلت پیدا کر کے عوام کو ذہنی اذیت دی جا رہی ہے، کاشف حیدری
کوئٹہ (این این آئی) مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان کاشف حیدری نے کہا ہے کہ ہزارہ ٹاﺅن میں پانی کی قلت کے تدارک کیلئے سابق حکومتوں اور منتخب عوامی نمائندوں نے کسی قسم کی دلچسپی نہیں دکھائی، آج بھی لوگ مہنگے داموں ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں، یہ بات انہوں نے جرمن نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے واضح احکامات موجود ہونے کے باوجود ہزارہ ٹاﺅن میں آج بھی پرائیویٹ ٹیوب ویل مافیا مسلط ہے جو کہ عدالتِ عالیہ کے احکامات کی کھلی توہین اور انتظامیہ کی نااہلی کا ثبوت ہے، ضلعی انتظامیہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرانے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جس کی وجہ سے مافیا کے حوصلے مزید بلند ہو چکے ہیں، کاشف حیدری نے کہا کہ آج بھی ہزارہ ٹاﺅن کے رہائشیوں کا فریاد ہے کہ موسمِ سرما کی شدت کے باوجود وہ بوند بوند کو ترس رہے ہیں، مافیا کی جانب سے مہنگے داموں ماہانہ بل وصول کرنے کے باوجود مہینے میں صرف 2 سے 3 بار پانی فراہم کیا جا رہا ہے، پانی کی اس شدید قلت کی وجہ سے غریب عوام اپنی قلیل آمدنی کا بڑا حصہ مہنگے داموں ٹینکر خریدنے پر مجبور ہے، اس شدید سردی کے موسم میں جب پانی کا استعمال دیگر موسموں کی نسبت کم ہوتا ہے، تب بھی پانی کی مصنوعی قلت پیدا کر کے عوام کو ذہنی اذیت دی جا رہی ہے، پرائیویٹ مافیا نے اب پانی کے نرخوں میں مزید اضافے کا غیر قانونی عندیہ دیا ہے جس سے ایک غریب اور متوسط گھرانے کے لیے زندگی بسر کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے، ہزارہ ٹاو¿ن کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف کمر توڑ مہنگائی نے جینا محال کر دیا ہے تو دوسری طرف بنیادی انسانی ضرورت یعنی پانی بھی مافیا سے مہنگے داموں خریدنا پڑ رہا ہے جو کہ ریاست کی ذمہ داری تھی، سابقہ حکومتوں اور منتخب نمائندوں نے ہمیشہ اس سنگین مسئلے سے چشم پوشی کی ہے جس کی وجہ سے علاقے کے مکین آج بھی بنیادی حق کے لیے دربدر ہیں، سیاسی نمائندوں نے صرف ووٹ کے وقت جھوٹے وعدے کیے مگر اقتدار میں آتے ہی عوام کو اس ظالم مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا، کاشف حیدری نے زور دیا کہ ہزارہ ٹاو¿ن کو پرائیویٹ مافیا کے چنگل سے نجات دلا کر پانی کا تمام نظام فوری طور پر واسا کے حوالے کیا جائے کیونکہ عوام کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے، کاشف حیدری نے کہا کہ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو عوام مجبوراً احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگی جس کی تمام تر ذمہ داری براہِ راست حکومت اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔


