وزیراعلیٰ کو جلدی ہے کہ یہ جنازے دفنائے جائیں، حکومت جوڈیشل کمیشن بناتی ہے تو چیف سیکرٹری، سیکرٹری داخلہ، ڈپٹی کمشنر کو ہٹایا جائے، قندھار، پکتیا میں بیٹھے لوگ دہشتگرد نظر آتے ہیں، تمہاری مونچھوں کے نیچے جو آزاد گھوم رہے ہیں یہ تمہیں نظر نہیں آتے؟، محمود اچکزئی

کوئٹہ (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے اپنے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان کو ہارڈ اسٹیٹ بنا دیا گیا ہے جس میں ہر مخالف کو گولی سے کچلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہم پاکستان توڑنا نہیں چاہتے لیکن اگر خدانخواستہ اپ نے لازمی ملک توڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو پھر خون بہا کر کیوں؟ آپ کو یہاں سے قندھار، پکتیا میں بیٹھے لوگ نظر آتے ہیں کہ یہ دہشتگرد ہیں لیکن تمہاری مونچھوں کے نیچے جو دہشتگرد آزاد گھوم رہے ہیں یہ تمہیں نظر نہیں آتے؟ اندھے ہو؟ عینک کا بندوبست کریں تمہارے لیے؟۔ جتنا بھی ہمیں قتل کرو لیکن یہ یاد رکھنا، یہ تاریخ کا حکم ہے کہ پشتون افغان وطن پر سوائے پشتون افغان کے کسی کا اختیار نہیں چلے گا۔ میری زیارت دھرنے کی مذاکراتی کمیٹی کو تجویز ہے کہ اگر حکومت جوڈیشل کمیشن بناتی ہے تو اس کیلئے لازمی ہے کہ چیف سیکرٹری، سیکرٹری داخلہ، ڈپٹی کمشنر کو ہٹایا جائے۔ ان کی موجودگی میں تحقیقات نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے ہمارے بچوں کو بھیجا وہ قتل ہوئے۔ کسی نے ایسا سوچا تھا کہ زیارت دھرنے کے خلاف طاقت استعمال کی جائے۔ اگر یہ بات ہے تو طاقت کا استعمال نہ کریں، ہم خود ہی اٹھ جائیں گے لیکن پھر پورے صوبے میں دھرنے ہوں گے اور تب تک ہوں گے جب تک آپ کے قدم یہاں سے نکل نہیں جاتے۔ سرفراز بگٹی کو قرآن کا واسطہ دے کر اس سے پوچھا جائے کہ کیا تمہیں نہیں پتا کہ یہ حکمران لوگوں کے پاس جا کر انہیں کہتے ہے کہ یہ سینکڑوں افراد اپنے ساتھ رکھ لو، اسلحہ بھی ہم دیں گے تم تیاری کرو۔ وزیراعلی صاحب کو جلدی ہے کہ یہ جنازے دفنائے جائیں۔ وزیراعلیٰ صاحب! بات صرف ان شہداءکے ساتھ ہونے والے ظلم تک نہیں رہی، پشتون قوم نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ کے ذریعے ہماری معدنیات سے بھری ہزاروں ایکڑ زمینیں لوگوں نے انتقال کی ہیں کہ ہمارے خزانے لوٹ سکیں، اس کے خلاف دھرنے جاری رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں