آئین میں ایسی ترمیم کی جائے جس کے تحت وفاق میں شامل وحدتوں کو علیحدگی کی آئینی اجازت حاصل ہو، ثنابلوچ

حیدرآباد/ کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماءسابق رکن صوبائی اسمبلی سینیٹر ثنا اللہ بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان کے وفاق میں شامل تمام تاریخی، قومی اور جغرافیائی وحدتوں کو حقوق کی پامالی سے بچانے کے لیے آئین میں ایسی ترمیم کی جائے جس کے تحت حقوق سے محروم وحدتوں کو حقِ خودارادیت استعمال کرتے ہوئے وفاق سے علیحدگی کی آئینی اجازت حاصل ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس (ایچ یو جے)کے زیرِ اہتمام حیدرآباد پریس کلب میں منعقدہ ڈائیلاگ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ثنا اللہ بلوچ نے کہا کہ وفاق ترقی کے نام پر سندھ اور بلوچستان کے وسائل استعمال کر رہا ہے۔ سندھ میں سپر ہائی وے کو موٹروے کا نام دے کر سندھ کے ساتھ بڑا مذاق کیا گیا ہے۔ سندھ ایک تاریخی جغرافیائی وحدت اور تہذیب کا نام ہے، سندھ کی تقسیم کوئی سندھی نہیں ہونے دے گا۔ بلوچستان ہمیشہ سندھ کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی کھڑا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں غیر سیاسی قوتیں اختیارات اور اقتدار پر قابض ہیں۔ تین صوبے، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا، مل کر بھی ملک کا وزیراعظم منتخب نہیں کر سکتے۔ اقتدار کا مرکز صرف پنجاب کو بنا دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ سمیت ملک کی تمام سیاسی اور جمہوری قوتوں کو متحد ہو کر وفاق میں اختیارات اور اقتدار کی منصفانہ تقسیم کے لیے سیاسی، پارلیمانی اور آئینی جدوجہد کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات سب کے سامنے ہیں اور ملک کے 70 فیصد رقبے پر ریاستی اختیار عملاًنافذ نہیں ہے۔ بلوچستان کے مقابلے میں سندھ میں اظہارِ رائے کی آزادی کسی حد تک موجود ہے اور سندھ سیاسی و جمہوری قوت کے اعتبار سے دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہے۔انہوںنے کہا کہ پاکستان کی تباہی میں ہر قسم کی بیوروکریسی کا کردار رہا ہے۔ اگر سندھ کے معدنی اور زرعی وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کیا جاتا تو ملک کو بہتر طریقے سے چلایا جا سکتا تھا۔ پاکستان کے انتخابات اور جمہوری عمل میں ہمیشہ غیر سیاسی قوتوں اور وفاق نے رکاوٹیں پیدا کی ہیں، جس کے باعث غلط وفاقی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی صورتحال خراب ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی طاقت کے مرکز سینیٹ جیسے اعلی ادارے کو تجارت کی منڈی بنا دیا گیا ہے۔ سینیٹ میں موجود سندھ کے سینیٹرز نے کبھی شعوری انداز میں سندھ کا مقدمہ پیش نہیں کیا۔ سینیٹ ایوانِ اشرافیہ اور ایوانِ تجارت بن چکا ہے، جہاں مافیا کا قبضہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وفاق میں اختیارات کی غیر مساوی تقسیم اور پانی و مالی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ سندھ اور بلوچستان خشک سالی کا شکار ہیں جبکہ سندھ کا ڈیلٹا تباہ ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان مل کر موجودہ وفاق میں منصفانہ نظام قائم کر سکتے ہیں۔ صوبوں کے قدرتی وسائل پر حقِ حاکمیت قومی وحدتوں سے وابستہ ہے، لیکن آئین میں صوبوں کو دیے گئے حقوق اور تحفظات عملا فراہم نہیں کیے جا رہے۔انہوںنے کہا کہ صرف سندھ سے تقریبا 1600 ارب روپے مالیت کی گیس نکلتی ہے۔ آئینی طور پر سندھ سے نکلنے والے تیل، گیس اور بجلی پر پہلا حق سندھ کا ہے، لیکن یہ حق سندھ کے ساتھ بلوچستان کو بھی نہیں مل رہا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک زرعی ملک میں زرعی ترقیاتی بینک کے 82 فیصد قرضے پنجاب میں استعمال ہوتے ہیں، جبکہ سندھ کو صرف 7 فیصد قرض ملتا ہے اور بلوچستان کو ایک فیصد بھی نہیں دیا جاتا۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت ہمیشہ سندھ کے سہارے قائم کی جاتی ہے اور موجودہ وفاقی حکومت بھی سندھ کے ووٹوں سے بنی ہے۔ بلوچستان کی صورتحال 2002 کے بعد مزید خراب ہوئی، جبکہ ڈاکٹر شازیہ کیس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل صرف سیاسی طریقے سے نکالا جا سکتا ہے۔ بلوچستان میں کسی بھی رنگ، نسل یا مذہب سے تعلق رکھنے والے شخص کا قتل کوئی بھی سیاسی شعور رکھنے والا فرد قبول نہیں کرے گا۔ڈیموکریٹک جرنلسٹس فورم کے سربراہ اور سینئر صحافی لالا رحمان سموں ، معروف دانشور جامی چانڈیو، قانون دان یوسف لغاری، ادیب انعام شیخ، امداد چانڈیو، سماجی رہنما ماروی اعوان، حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر وسیم خان، جنرل سیکریٹری جام فرید لاکو، اقبال ملاح، خزانچی جانی خاصخیلی، حیدرآباد پریس کلب کے جنرل سیکریٹری اشوک شرما، سینئر صحافی جے پرکاش مورانی، امداد سومرو، منصور مری، راجہ انور چانڈیو، راشد لغاری، فاضل چنا، ونود کمار، تہمینہ سومرو، شزا بخاری، صدف میمن، مونا عباسی، مسعود عالم پیرزادہ، مقبول ملاح، حسیب لطیفی، عامر لطیف صدیقی، ادیب ادریس جتوئی، سکر لاشاری، ناز سہتو، جاوید چراخ، مجاہد سمیت دیگر صحافیوں، وکلا اور ادیبوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اور اپنی آراءپیش کیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں