چین اور پاکستان کے صدور کا مصافحہ

کرونا وائرس کا ظہور چین کے ایک شہر سے ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے نہ صرف چین کے ہر حصے میں پھیل گیا بلکہ ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔اس کے پھیلاؤ میں بنیادی کردار انسان کے ہاتھ ادا کرتے ہیں یہی وجہ ہے پہلی احتیاطی تدبیر دوسروں سے ہاتھ نہ ملانا اور ہاتھوں کو بار بار دھونا بتائی جاتی ہے۔ ایسے نفسیاتی ماحول میں چین کے صدر شی جن پنگ اور پاکستان کے صدرڈاکٹرعارف علوی کی مصافحہ کرتی ہوئی تصویر میڈیا پر آنا ایک خوشگوار تأثر پیدا کرنے سبب بنی۔جبکہ پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان اور ملک کے معروف مذہبی اسکالر مولاناطارق جمیل نے ایک دوسرے سے فاصلہ رکھاہاتھ نہیں ملایا حالانکہ مولانا طارق جمیل کوتصویر میں مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے وزیر اعظم عمران خان سینے پر ہاتھ رکھے اپنی جگہ کھڑے نظر آتے ہیں۔چین نے وائرس کا جرأت سے مقابلہ کیا۔پاکستان کے صدر نے چین کے صدر کا ہاتھ تھام کر دنیا کو پیغام دیا ہے کہ پاکستان کے عوام بھی چینی عوام کی طرح بہادری سے کورونا کا مقابلہ کریں گے اور اسے شکست دیں گے۔ایران سے واپس آنے والے زائرین میں سے کورونا کے متأثرین کو الگ کرنے میں ایئر پورٹس پر یقیناً کوتاہی ہوئی ہے اور موجودہ بگاڑ اسی غفلت کا نتیجہ ہے۔تفتان پر زائرین کی تعداد سنبھالنے کے انتظامات سے کئی گنا زیادہ تھی۔عملہ زائرین کے اتنے بڑے ہجوم کی چیکنگ کے لئے ناکافی تھا، اس کے پاس ضروری سامان نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔وفاقی سطح پر اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں ہینڈل کیا گیا۔وفاق میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں بلوچستان کے تانبے اور سونے کے ذخائر سے آگے کچھ نظر نہیں آتا۔یہ لوگ اس وقت پریشان دکھائی دیں گے جب انہیں خدشہ ہوگا کہ کرونا وائرس بلوچستان کے معدنی ذخائر تک رسائی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔وفاق میں حکومت بنانے کے لئے چھوٹے صوبوں سے اراکین نہیں لینے پڑتے اسی طرح وفاقی سیکرٹریز کی سوچ بھی شاہانہ بن چکی ہے۔یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ پنجاب نے اپنی عددی کثرت کے بل پر بلوچستان سمیت چھوٹے صوبوں کو کبھی ان کا حق نہیں دیا۔ اس کی جھلک کورونا وائرس کی روک تھام کے انتظامات میں بھی ملے گی۔اس فکری رویئے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔یہ اسی وقت تبدیل ہوگا جب سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کی سیاسی و جغرافیائی حکمت عملی کے مطابق پنجاب کودو کی بجائے تین صوبوں میں تقسیم کیا جائے گا۔اس کا درست حل اس وقت ملے گا جب پاکستان کے تمام صوبوں کے پاس سینیٹ کی طرح قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی یکساں تعداد ہوگی۔یہ ممکن ہے،صرف ارادے کی ضرورت ہے۔تنگ نظر ی سے باہر نکلنے کا ارادہ چاہیے یہاں تنگ نظری اور خود غرضی کا یہ عالم ہے کہ بڑا بھائی اپنے سگیچھوٹے بھائی پر اعتماد نہیں کرتا اپنی بیٹی کو اپنی گدی پر بٹھانا چاہتا ہے۔یہی اصل خرابی ہے اسے دور کیا جائے۔میرٹ کو بنیادبنایا جائے۔ یاد رہے دولت اور وسائل کی مساویانہ تقسیم کے مطالبے سے سوشلسٹ معاشرے نے جنم لیا۔ یہ مطالبہ اپنے ساتھ بادشاہت کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گیا۔موروثی سیاست ہویا پارلیمنٹ میں پنجاب کی عددی کثرت کا خمار ہو،اسے ایک دن اترنا ہے یہ گرتی ہوئی دیواریں ہیں انہیں ریت کے ڈھیر میں تبدیل ہوناہے۔کوونا وائرس کے معاملات نے ان دیواروں کی کمزور حیثیت کو اجاگر کر دیا ہے۔ نواز شریف والی دو تہائی اکثریت کے نتائج دیکھتے ہوئے عمران خان کو اقتدارانتہائی مہارت سے ناپ کردیا گیا لیکن ضرورت کے وقت چیئرمین سینیٹ کے خلاف قومی اسمبلی کے فلور پر با آوازِ بلند عدم اعتماد کا اعلان کرنے والوں سے اعتماد کا ٹھپہ لگوانے کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔یہ موجودہ قومی اسمبلی کی ڈیڑھ سالہ تاریخ میں رونما ہونے والا تازہ واقعہ ہے۔سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔سب عینی شائد ہیں۔ یہاں عیوب و محاسن پر بحث مقصود نہیں زمینی حقائق کی جانب اشارا کافی ہے تاکہ کورونا وائرس میں مزید کوتاہی نہ برتی جائے۔غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں اور بڑھ کر بہت دور نکل جاتی ہیں۔نون لیگ کے رہنما خواجہ آصف میڈی کے روبرو کورونا کے تیزی سے پھیلاؤ کی ذمہ داری وزیر اعظم کے معاون خصوصی ذوالفقار(زلفی بخاری) پر ڈال رہے ہیں اور زائرین کی بڑی تعداد کے غائب ہونے کا شبہ بھی ظاہر کر رہے ہیں۔وزیر اعظم عمران خانے بھی اپنے خطاب میں کورونا کے بے قابو ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔علماء سے خصوصی دعاؤں کی درخواست کا پس منظر چوکنّا رہنے کا متقاضی ہے۔ یورپ برطانیہ اور امریکا اور کینیڈا میں سینکڑوں کی تعداد میں ہلاکتیں ہونا تشویشناک ہے۔ جب ترقی یافتہ ممالک بے بس ہیں تو پاکستان کے سیاست دانوں کو اپنی الزام تراشی کی عادت ترک کرنا ہوگی۔عوام کو سچ بتایا جائے بلاوجہ خوف و ہراس پھیلانا درست نہیں حکومت کو بھی چاہیے کہ کرونا وائرس کے حوالے قوم سے سچ بولے تاکہ افواہوں کی ضرورت نہ رہے اور عام آدمی سرکاری اطلاعات پر اعتماد کر سکے۔ایک ڈیڑھ مہینے میں کورونا کی پسپائی شروع ہو جائے گی انشاء اللہ!

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں