نجی ہوٹلوں میں بند کمروں کے اندر تشکیل دی جانے والی حکومت کسی صورت عوامی حکومت نہیں کہلا سکتی، جمعیت بلوچستان

کوئٹہ (این این آئی )جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نجی ہوٹلوں میں بند کمروں کے اندر تشکیل دی جانے والی حکومت کسی صورت عوامی حکومت نہیں کہلا سکتی۔ عوامی مینڈیٹ کی حقیقی ترجمان اور صوبے کی نمائندہ قوت جمعیت علماء اسلام ہے، جسے عوام نے اپنے اعتماد، ووٹ اور تائید کے ذریعے واضح برتری عطا کی۔ مگر افسوس کہ عوامی فیصلے کو پسِ پشت ڈال کر اقتدار کے ایوانوں میں مصنوعی اکثریت تخلیق کی گئی۔بیان میں کہا گیا کہ نئے اور پرانے چہروں کی وہ مصنوعی نماہندے، جنہیں اقتدار کی مسند پر بٹھایا گیا، صوبے کے باشعور عوام بخوبی جانتے ہیں کہ انہیں کس بنیاد پر اور کن سہاروں سے نوازا گیا۔ انتخابی نتائج کو مسخ کرنا، جیتی ہوئی نشستوں کو ہفتوں تک متنازع بنائے رکھنا، اور ایک ایک حلقے میں ہزاروں ووٹرز کے اعتماد کو مجروح کرنا جمہوری اقدار کے ساتھ سنگین کھلواڑ ہے۔ یہ طرزِ عمل دراصل جمہوری نظام پر عوام کے اعتماد کو متزلزل کرنے کی منظم کوشش ہے۔ترجمان نے واضح کیا کہ جب عوام کے واضح مینڈیٹ کو تسلیم نہ کیا جائے، جب کامیاب امیدواروں سے ان کی جیتی ہوئی نشستیں چھینی جائیں، اور جب انتخابی عمل کو پس پردہ فیصلوں کے ذریعے یرغمال بنایا جائے تو پھر جمہوریت کے داعیوں کے پاس کیا اخلاقی جواز باقی رہ جاتا ہے کہ وہ عوام کو جمہوری راستہ اختیار کرنے کی تلقین کریں؟ گزشتہ انتخابات کے تلخ تجربات نے ان حلقوں کے مو¿قف کو تقویت دی ہے جو یہ کہتے رہے ہیں کہ اسمبلیاں عوامی مسائل کے حل میں مو¿ثر کردار ادا نہیں کر رہیں۔ یہ صورتِ حال جمہوری نظام کے لیے نیک شگون نہیں۔جمعیت علماء اسلام بلوچستان نے کہا کہ ہمارا مو¿قف اصولی اور دوٹوک ہے۔ ہم نے ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی، شفاف انتخابی عمل، اور حقیقی عوامی نمائندگی کے لیے جدوجہد کی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوریت محض انتخابی عمل کا نام نہیں بلکہ عوامی اعتماد، شفافیت، جوابدہی اور سیاسی دیانت کا مجموعہ ہے۔ اگر ان بنیادی ستونوں کو کمزور کیا جائے گا تو نظام اپنی اخلاقی حیثیت کھو دے گا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ بلوچستان جیسے حساس اور محروم صوبے میں سیاسی استحکام کا واحد راستہ حقیقی عوامی مینڈیٹ کا احترام ہے۔ طاقت کے بل بوتے پر قائم کی گئی حکومتیں نہ تو دیرپا ہوتی ہیں اور نہ ہی عوامی مسائل کے حل کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ عوامی رائے کو دیوار سے لگانے کا انجام ہمیشہ سیاسی بے چینی، بداعتمادی اور انتشار کی صورت میں سامنے آتا ہے۔جمعیت علماء اسلام آج بھی اپنے اصولی مو¿قف پر قائم ہے۔ ہم جمہوریت کے استحکام، آئینی بالادستی اور عوامی حقِ حکمرانی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہمارا یقین ہے کہ پائیدار سیاسی نظام صرف اسی وقت ممکن ہے جب عوام کے ووٹ کا احترام کیا جائے، انتخابی نتائج کو من و عن تسلیم کیا جائے، اور اقتدار کی بنیاد بند کمروں کی مفاہمت کے بجائے عوامی عدالت کے فیصلے پر رکھی جائے۔جمعیت علماء اسلام بلوچستان واضح کرتی ہے کہ عوامی مینڈیٹ کی حفاظت ہماری سیاسی ذمہ داری بھی ہے اور جمہوری تقاضا بھی۔ ہم ہر آئینی، قانونی اور سیاسی فورم پر اپنے حق اور صوبے کے عوام کے حقِ نمائندگی کا دفاع کرتے رہیں گے، کیونکہ جمہوریت کی بقا ہی عوام کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے