افغان حکام کا اسلامی انقلاب ایران کی سالگرہ تقریب میں شرکت، ایرانی حکام کا افغان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا عندیہ

ویب ڈیسک : افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایرانی سفارتخانے کی جانب سے 10 فروری کو ایران کے اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں افغان طالبان کے سینیئر حکام نے بھی شرکت کی۔افغانستان میں ایرانی سفارتخانے کی جانب سے ایکس پر اس تقریب کے متعلق شیئر کی گئی تصاویر میں دیگر کئی اگفراد کے ہمراہ طالبان حکومت کے نائب وزیر خارجہ برائے انتظامی و مالی امور محمد نعیم وردک اور وزارت اقتصادیات میں پیشہ ورانہ امور کے نائب وزیر عبداللطیف نظری بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔اس تقریب میں نعیم وردک نے طالبان حکومت کی جانب سے ایران کے ساتھ ’قریبی‘ تعلقات برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔افغانستان کے آریانہ نیوز کا تقریب کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ وردک کا کہنا تھا کہ کابل اور تہران کے قریبی تعلقات کے بغیر خطے میں پائیدار استحکام اور ترقی نہیں ہو سکتی۔دوسری جانب بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق، نجی افغان ٹی وی چینل طلوع نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کابل میں ایرانی سفارتخانے کے ناظم الامور علی رضا بیکدلی نے ایران کی جانب سے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے میں تاخیر کے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا: ’یہ اپنے وقت پر ہو گا اور اس حوالے سے بات چیت جاری ہے، اور اس میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔‘گذشتہ ماہ ایران میں بڑے پیمانے پر ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران طالبان نے زیادہ تر خاموشی اختیار کی تھی، جبکہ طالبان کے ایک عہدیدار نے ایرانی حکومت کے خاتمے کے امکان کو مسترد کر دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں