برطانیہ میں وزرائے اعظم کی مدت ملازمت بہت چھوٹی ہوچکی، دس سال میں ساتویں وزیراعظم نے استعفا دیدیا

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ کی سیاست میں ان دنوں ایک ایسا طوفان آیا ہوا ہے جس کی مثال پچھلی دو صدیوں میں نہیں ملتی۔ پیر کے روز برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے انتہائی اداس ماحول میں صرف دو سال حکومت کرنے کے بعد اپنے استعفے کا اعلان کیا، تو انہوں نے دنیا کو ایک بار پھر حیران کر دیا۔ کیئر اسٹارمر کا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اب برطانیہ میں وزرائے اعظم کی مدتِ ملازمت بہت چھوٹی ہوچکی ہے۔ جولائی 2016 سے لے کر اب تک، یعنی محض دس سال کے عرصے میں برطانیہ اپنا ساتواں وزیراعظم دیکھنے جا رہا ہے۔ یہ وہی برطانیہ ہے جو کبھی اپنی سیاسی اور معاشی مضبوطی کے لیے پوری دنیا میں مشہور تھا اور جہاں مارگریٹ تھیچر اور ٹونی بلیئر جیسے لیڈروں نے کئی کئی سال حکومت کی تھی۔ اب حالات یہ ہیں کہ برطانیہ کے لوگ دوسرے ملکوں کی سیاسی تبدیلیوں پر حیران ہونے کے بجائے خود اپنے ملک کے وزرائے اعظم کے آنے جانے کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ اسی لیے ہر عام شہری کے ذہن میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ آخر اس ترقی یافتہ ملک میں اتنی جلدی جلدی حکومتیں اور وزرائے اعظم کیوں بدل رہے ہیں؟ سب سے پہلا اور بڑا سبب معاشی بدحالی اور عام آدمی کی پریشانی ہے۔ برطانیہ 2007 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد سے اب تک معاشی طور پر پوری طرح سنبھل نہیں پایا ہے۔ ملک پر قرضوں کا بوجھ اتنا بڑھ چکا ہے کہ وہ ملک کی جی ڈی پی یونی ک±ل کمائی کے برابر پہنچنے والا ہے۔ پبلک فنانس کے ماہر پال جانسن برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے اس صورتحال کو بالکل سادہ لفظوں میں یوں بیان کیا کہ ”پچھلے چند وزرائے اعظم اس معاملے میں بدقسمت رہے، کیونکہ انہیں ایک ایسا ملک ملا جہاں پچھلے بیس سال سے لوگوں کی مالی حالت بہتر نہیں ہوئی اور وہ شدید تنگ آ چکے ہیں۔“

اپنا تبصرہ بھیجیں