محکمہ جنگلات نے بلوچستان میں ایک سال کیلئے درختوں کی کٹائی پر پابندی عائد کردی
کوئٹہ (این این آئی )بلوچستان میں بڑے پیمانے پر جنگلات کی کٹائی کا معاملہ سامنے آنے پر صوبائی حکومت حرکت میں آگئی محکمہ جنگلات نے بلوچستان میں ایک سال کیلئے درختوں کی کٹائی پر پابندی عائد کردی ۔ سیکرٹری محکمہ جنگلات عمران گچکی نے بتایا کہ لسبیلہ میں جنگلات کی کٹائی کے حوالے سے کمشنر قلات کی جانب سے ارسال کردہ رپورٹ پر فوری ایکشن لیتے ہوئے محکمہ جنگلات نے اپنے فرائضِ منصبی میں غفلت برتنے اور درختوں کی غیر قانونی کٹائی میں ملوث ہونے پر محکمہ جنگلات کے پانچ افسران کو عہدوں سے معطل کر دیا گیا ہے جبکہ صوبے بھر میں ایک سال کے لیے ہر قسم کے درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس پابندی کا اطلاق فوری طور پر ہوگا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔
دوسر ی جانب حکومت بلوچستان نے صوبے میں جنگلاتی وسائل کے تحفظ، غیر قانونی کٹائی اور لکڑی کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے صوبے بھر میں ہر قسم کی لکڑی، ٹمبر، لاگز اور دیگر جنگلاتی مصنوعات کی نقل و حمل، ترسیل اور منتقلی پر 90 روز کے لیے پابندی عائد کر دی ہے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات کے مطابق یہ فیصلہ عوامی مفاد اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے پیش نظر ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت کیا گیا ہے۔ پابندی کا اطلاق فوری طور پر ہوگا اور یہ حکم صوبہ بلوچستان کے تمام اضلاع میں نافذ العمل رہے گا انہوں نے بتایا کہ صوبے میں جنگلاتی وسائل کی غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنے اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات کی ترسیل پر عارضی پابندی ضروری سمجھی گئی۔ اس اقدام کا مقصد جنگلات کے تحفظ اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کو یقینی بنانا ہے محمد حمزہ شفقات کے مطابق تمام ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والی کسی بھی گاڑی، ٹرک، ٹریلر یا دیگر ذرائع نقل و حمل کو روک کر قبضے میں لے سکتے ہیں اور متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لا سکتے ہیں انہوں نے واضح کیا کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188 اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ دورانِ پابندی کسی بھی اجازت نامے، پاس یا اتھارائزیشن کی بنیاد پر لکڑی یا جنگلاتی مصنوعات سے لدی گاڑیوں کو رہا نہیں کیا جائے گا ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ صرف غیر معمولی نوعیت کے ایسے معاملات جن کا تعلق عوامی مفاد یا حکومتی ضروریات سے ہو، ان میں متعلقہ انتظامی سیکرٹری محکمہ داخلہ کو تحریری طور پر خصوصی استثنیٰ کی درخواست ارسال کر سکے گا۔ تاہم محکمہ داخلہ کی جانب سے باقاعدہ تحریری منظوری ملنے تک پابندی مکمل طور پر نافذ العمل رہے گی محکمہ داخلہ بلوچستان نے متعلقہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ حکم نامے پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ جنگلاتی وسائل کا تحفظ، ماحولیاتی توازن کی بحالی اور قدرتی وسائل کی غیر قانونی نقل و حرکت کی مو¿ثر روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔


