حکومت اور زیارت دھرنا کمیٹی کے درمیان تحریری معاہدہ طے پا گیا
زیارت دھرنا کمیٹی اور حکومتی کمیٹی نے 8 نکاتی معاہدے پر اتفاق کرلیا جس پر باقاعدہ دستخط بھی ہوگئے ذرائع کے مطابق معاہدے میں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل، لیویز فورس کی بحالی کے لیے لائحۂ عمل، پولیس کو بااختیار اور مضبوط بنانے، متنازع زمینوں کی الاٹمنٹس منسوخ کرنے اور مسلح جتھوں کے خلاف کارروائی سمیت اہم نکات شامل ہیں
ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے گا، جس کے لیے بلوچستان حکومت ہائی کورٹ کو باضابطہ مراسلہ ارسال کرے گی۔
معاہدے کے تحت بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں، مسلح جتھوں اور امن دشمن عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے یا اس کی بحالی کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق 15 روز کے اندر آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی، جبکہ اتفاقِ رائے نہ ہونے کی صورت میں معاملہ بلوچستان اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔جہاں ووٹنگ کی جائیگی
معاہدے میں شہری علاقوں میں امن و امان یقینی بنانے، پولیس کو جدید وسائل فراہم کرنے، نفری میں اضافے اور پولیس کو مزید بااختیار اور مضبوط بنانے کے نکات بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق ضلع زیارت، منگی ڈیم اور دیگر متعلقہ علاقوں میں زمینوں کی متنازع الاٹمنٹس کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جبکہ غیر قانونی یا متنازع الاٹمنٹس منسوخ کی جائیں گی اور مقامی آبادی کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
تمام شہداء، پولیس اہلکاروں اور دیگر متاثرین کے لواحقین کو شہداء پیکیج کے تحت معاوضہ، بچوں کی تعلیم، ملازمتوں اور دیگر مراعات کی فراہمی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
معاہدے کے تحت بعض سرکاری عمارتوں، چیک پوسٹوں اور اہم مقامات کو شہدائے زیارت کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین نے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد دھرنا ختم کرنے اور شہداء کی تدفین کا فیصلہ کیا جائے گا۔


