سعودی عرب کو امریکا سے جوہری معاہدے کی منظوری کیلئے اسرائیل کو تسلیم کرنا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان سویلین مقاصد کے جوہری معاہدے کی منظوری سعودی عرب کی جانب سے ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہو گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری تعاون کے معاہدے کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جوہری تعاون کا معاہدہ اس وقت تک حتمی منظوری حاصل نہیں کرے گا جب تک سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کرتا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پ±رامن اور شہری مقاصد کے لیے ہوگا، جس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ اسی طرز پر ہوگا جیسا امریکا نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ سول نیوکلیئر تعاون کے حوالے سے کیا تھا۔ امریکی صدر کے مطابق معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب کو بجلی کی پیداوار سمیت شہری ضروریات کے لیے جوہری ٹیکنالوجی، تکنیکی مہارت اور دیگر معاونت فراہم کریں گی۔ گزشتہ روز ٹرمپ انتظامیہ نے بتایا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ جوہری تعاون کا معاہدہ 30 سال کے لیے ہوگا، جسے منظوری کے لیے امریکی کانگریس بھیجا جائے گا۔ ابراہام معاہدے 2020 میں امریکا کی ثالثی میں ہونے والے سفارتی معاہدے ہیں، جن کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے تھے۔ سعودی عرب اب تک ان معاہدوں کا حصہ نہیں بنا۔ ریاض کا مو¿قف رہا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ قبول پیش رفت کے بغیر اسرائیل کو باضابطہ تسلیم کرنا ممکن نہیں۔ ماضی میں سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے سے انکار کر چکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں