وزرات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، اب سڑکوں پر بات کریں گے، مصطفی کمال

وفاقی وزیرِ صحت اور رہنما ایم کیو ایم پاکستان مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ہم اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے، ہمیں آئین اجازت اور اختیار دیتا ہے۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہم نے پارلیمنٹ کی سیاست کر لی، ترمیم پیش کر دی ، اب ہم سڑکوں پر آ کر بات کریں گے۔ان کا کہنا ہے کہ ہم نے تمام حجت کر لی اب سڑکوں پر آئیں گے، وزرات کو ہم جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، ایم کیو ایم تمام منظر کو خاموشی سے بیٹھ کر نہیں دیکھے گی۔ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ اس ملک میں اختیارات کو نچلی سطح تک لے جانے کے لیے جدوجہد کریں گے، اس میں سرِ فہرست انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانا ہے، نئے صوبوں کا قیام نا گریز ہوگیا ہے۔ ہم نئے صوبوں کی حمایت کرنے والوں کی آواز بنیں گے۔پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ لاہور آج کراچی سے 50 سال آگے چلا گیا ہے، ہمیں خوشی ہے جبکہ سندھ میں لاقانونیت عروج پر ہے، سندھ میں گٹر میں گر کے اور کتے کے کاٹنے سے بچے جاں بحق ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے لوگوں کا لوٹا ہوا پیسا دبئی میں لگایا گیا، جس سے دبئی میں پراپرٹی منہگی ہوئی۔

سندھ کے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کے بیانات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں پر آنے کا شوق ضرور پورا کریں، موسم گرم ہے پانی ہم پلا دیں گے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ 18انھوں نے کہا کہ چار صوبے نہیں سنبھل رہے اور مصطفیٰ کمال کو نئے صوبوں کی سوجھ رہی ہے۔ سندھ کا آئینی اور جغرافیائی نقشہ کسی رہنما کی ذاتی خواہش پر تبدیل نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے کہا کہ اقتدار کے مزے لوٹنے والی ایم کیو ایم کو الیکشن قریب آتے ہی عوام یاد آ گئے۔صوبائی وزیر ثقافت ذوالفقار شاہ نے کہا ہے کہ خالد مقبول اپنی ڈوبتی چیئرمین شپ کو بچانے کیلئے دربدر ہیں، خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی تقسیم نفرتوں کی سیاست والوں کا انجام ہے۔ذوالفقار شاہ نے مزید کہا کہ پہلے تقسیم شدہ قیادت طے کرلے کس کی بات کو سنجیدہ لینا ہے۔سال کا حساب مانگنے والے بتائیں، سیاسی لانڈری سے دھلنے کا کتنا حساب دیا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں