الزام لگا رہا ہوں سرانان واقعہ حکومت کے اندر موجود کالی بھیڑوں کا کام ہے، محمود خان اچکزئی
اسلام آباد / کوئٹہ(یو این اے)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے سرانان میں پیش آنے والے واقعے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ واقعے کے پس پردہ حکومت کے اندر موجود کالی بھیڑیں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ سرانان میں جو کچھ ہوا، اس پر حکومت کی جانب سے جس ردعمل کا اظہار ہونا چاہیے تھا وہ دیکھنے میں نہیں آیا، جس سے کئی اہم سوالات جنم لیتے ہیں قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے سرانان واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کل پرسوں سرانان میں جو کچھ ہوا، اس پر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ واضح طور پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ سرانان میں جو کچھ ہوا، وہ حکومت کے اندر موجود کالی بھیڑوں کا کام ہے محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں سرانان واقعے کی تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کے تعین کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کو محض ایک معمول کے واقعے کے طور پر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر کسی واقعے کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اور خدشات موجود ہوں تو حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کا جواب دیں اور عوام کو حقائق سے آگاہ کریں انہوں نے کہا کہ سرانان میں پیش آنے والے واقعے کے بعد حکومت کی خاموشی اور عدم توجہی نے صورتحال کو مزید تشویش ناک بنا دیا ہے۔ ان کے بقول اگر حکومت کے اندر موجود کوئی عناصر ریاستی معاملات یا سیاسی معاملات کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں تو اس کی نشاندہی اور احتساب ضروری ہے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ نے اپنے خطاب میں حکومت کے اندر موجود بعض عناصر پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ عناصر سیاسی معاملات کو خراب کرنے اور مختلف فریقوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسے عناصر پر نظر رکھنی چاہیے جو مبینہ طور پر حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان معاملات کو سبوتاژ کر رہے ہیں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک اس وقت پہلے ہی مختلف سیاسی اور انتظامی مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں اگر حکومت کے اندر موجود عناصر کسی بھی معاملے کو خراب کرنے کی کوشش کریں تو اس کے اثرات صرف ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے سیاسی نظام اور ملکی صورتحال پر پڑتے ہیں قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران محمود خان اچکزئی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ عمران خان کی بہن کو اسپتال کے ایک دوسرے کمرے میں بند کیا گیا، جبکہ ملک بھر میں یہ تاثر موجود تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ لوگوں میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے عمران خان کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے گا، تاہم بعد ازاں رات کے وقت یہ اطلاع سامنے آئی کہ انہیں مبینہ طور پر کسی دوسرے اسپتال منتقل کردیا گیا محمود خان اچکزئی نے اس صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت کے احکامات موجود تھے اور ان پر عمل درآمد کے حوالے سے ایک واضح طریقہ کار طے کیا گیا تھا تو پھر اچانک صورتحال تبدیل ہونے کی وجہ کیا تھی۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے اس حوالے سے وضاحت طلب کی ان کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت اور حکومت کے درمیان معاملات کو شفاف انداز میں آگے بڑھایا جانا چاہیے، تاہم اگر ایسے فیصلے کیے جائیں جن کے بارے میں متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں نہ لیا جائے تو اس سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں محمود خان اچکزئی نے الزام عائد کیا کہ حکومت میں بعض ایسے عناصر موجود ہیں جو تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان معاملات کو بہتر بنانے کے بجائے انہیں سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے عناصر نہ صرف سیاسی کشیدگی برقرار رکھنا چاہتے ہیں بلکہ ملک کے سیاسی ماحول کو بھی مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اندر موجود ایسے عناصر کا کردار واضح کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ریاستی معاملات کسی فرد یا گروہ کے ذاتی مفادات کے تابع نہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن ملک میں آئینی اور جمہوری معاملات کو شفاف طریقے سے چلانا ضروری ہے اپوزیشن لیڈر نے سرانان واقعے کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں پیش آنے والے واقعات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق بلوچستان پہلے ہی حساس صورتحال سے گزر رہا ہے، اس لیے کسی بھی واقعے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے آسکیں محمود خان اچکزئی کے مطابق سرانان واقعے پر خاموشی اختیار کرنے سے سوالات ختم نہیں ہوں گے بلکہ مزید بڑھیں گے۔ اگر حکومت کے پاس واقعے کے بارے میں کوئی وضاحت ہے تو اسے قومی اسمبلی اور عوام کے سامنے رکھنی چاہیے تاکہ پیدا ہونے والے شکوک و شبہات دور ہوسکیں انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق چلائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی معاملے میں حکومت یا ریاستی اداروں پر سوالات اٹھ رہے ہیں تو ان کا جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں اس امر پر بھی زور دیا کہ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی سیاسی جماعت یا رہنما کو دیوار سے لگانے یا معاملات کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش مسائل کو مزید پیچیدہ کرسکتی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ سیاسی مذاکرات اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے معاملات حل کرے اور ان عناصر کو روکے جو مبینہ طور پر سیاسی معاملات کو خراب کرنے میں مصروف ہیں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ وہ قومی اسمبلی کے فورم پر عوامی مسائل اور اہم قومی معاملات کی نشاندہی کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر حصوں کے عوام بھی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ حساس واقعات کے اصل حقائق کیا ہیں اور ان کے ذمہ دار کون ہیں انہوں نے ایک مرتبہ پھر سرانان واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت کے اندر موجود مبینہ کالی بھیڑوں کے کردار پر سوال اٹھا رہے ہیں اور اس معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ان کے بقول اگر حکومت کے اندر کوئی ایسے عناصر موجود ہیں جو ریاستی یا سیاسی معاملات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں تو انہیں بے نقاب کیا جانا چاہیے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک میں آئین، پارلیمنٹ اور جمہوری اداروں کی بالادستی ہی سیاسی بحرانوں کا مستقل حل ہے۔ ان کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات جمہوری نظام کا حصہ ہیں، تاہم ان اختلافات کو ایسے طریقے سے نہیں بڑھایا جانا چاہیے جس سے ملک میں مزید بے یقینی پیدا ہوانہوں نے مطالبہ کیا کہ سرانان واقعے سمیت ان تمام معاملات کی شفاف تحقیقات کی جائیں جن پر عوام اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حقائق سامنے آنے سے ہی افواہوں اور شکوک و شبہات کا خاتمہ ممکن ہے واضح رہے کہ محمود خان اچکزئی کے قومی اسمبلی میں دیے گئے بیان کے بعد سرانان واقعے اور عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق ان کے الزامات ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ تاہم ان کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی اور ان معاملات پر متعلقہ حکومتی یا ادارہ جاتی موقف سامنے آنا باقی ہے محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ملک میں موجود سیاسی بحران کا حل الزام تراشی یا محاذ آرائی میں نہیں بلکہ آئینی، جمہوری اور سیاسی طریقہ کار اختیار کرنے میں ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ حساس معاملات پر وضاحت پیش کرے، ذمہ دار عناصر کا تعین کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جن سے عوام اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مزید بے اعتمادی پیدا ہو۔


