عثمان کاکڑ نے ایوان سینیٹ میں اپنے قاتلوں کی نشاندہی کی تھی،پشتونخوا ملی عوامی پارٹی
موسی خیل: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری صوبائی صدر ملی اتل ملی شہید محمد عثمان خان کاکڑ کی شہادت کے استعماری اقدام کے خلاف پارٹی کے احتجاجی تحریک کے آغاز پر موسیٰ خیل میں منعقدہ احتجاجی جلسہ عام سے پارٹی کے مرکزی وصوبائی رہنماؤں رضا محمد رضا، عبدالرحیم زیارتوال، عبید اللہ جان بابت، یوسف خان کاکڑاور خیبر پشتونخوا کے رکن صوبائی اسمبلی میر کلام وزیر نے خطاب کرتے ہوئے ملی شہید اور پشتون قومی سیاسی تحریک کے عظیم رہنماء محمد عثمان کاکڑ کو ان کے لازوال قومی خدمات،قربانیوں اور تاریخی رول پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید رہنماء نے اپنے قاتلوں کی نشاندہی ملک کے سب سے بڑے ایوان سینٹ کے فلور پر واضح طور پر کی تھی کہ اگر مجھے کوئی نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار ملک کے بدنام زمانہ جاسوسی ادارے ہونگے۔ مقررین نے کہا کہ ملی شہید کو ان اداروں نے پشتون افغان ملت کی قومی وحدت اور ملی وحدت کی بحالی،قومی واک واختیار اور عوام کی جمہوری اقتدار، وسطی پشتونخوا (فاٹا) میں پشتون عوام کے خلاف فوجی آپریشنوں،دہشتگردی کے اقدامات، قومی مشران کی قتل عام اورعوام کے رہائشی مکانات اور تجارتی مراکز کے مسمار کرنے کے حوالے سے تقاریر کا سلسلہ بند کرنے اور آزاد جمہوری افغانستان میں جنگ اور دہشتگردی کی ذمہ داری پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پر ڈالنے، ملک کے قوموں کی برابری اور عوام کی جمہوری اقتدار، آئین وقانون اور پارلیمنٹ کی بالادستی جیسے مطالبات سے دستبردار ہونے کی تلقین کرتے رہے اور بصورت دیگر ان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ انہوں نے سینٹ میں کہا تھا کہ مجھے اپنی جان اور اپنے خاندان کی جانوں کی کوئی پرواہ نہیں لیکن ”مجھے گم کھاتے میں نہ ڈالا جائے“۔ ملی شہید محمدعثمان کاکڑ کی سینٹ میں اس تاریخی بیان کے تین ماہ بعد ان پر اپنے کوئٹہ کے گھر میں ایسا ہی حملہ ہوا جس کی پیشنگوئی سینٹ میں انہوں نے پہلے سے کی تھی۔ ریاست کے جاسوسی اداروں کے دہشتگردوں نے منظم پلان کے تحت شہید رہنماء کے سر پر ایسا کاری ضرب لگایا کہ بڑے بڑے ڈاکٹروں کی فوری علاج کے باوجود وہ جانبر نہ ہوسکے۔ مقررین نے کہاکہ استعماری قاتلوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ ان کا حملہ پشتون افغان قومی تحریک کے ایک ایسے محبوب رہنماء پر ہے جن کی شہادت سے پشتون افغان ملت کے علاوہ پاکستان کے تمام اقوام وعوام اور خطے کے ممالک غمزدہ ہونگے اور ان کی شہادت پر دنیا کے کروڑوں لوگوں کا شدید رد عمل آئیگا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے بہادر اور وطن پال عوام کو اپنے بہادر قومی رہنماء کی شہادت کا بدلہ ان کے قومی ارمانوں کی تکمیل کرنے کی صورت میں لینا ہوگا۔اس عظیم رہنماء کا بدلہ چند قاتلوں کو عبرتناک سزا کی بجائے قومی محکومی سے پشتونوں کی قومی نجات حاصل کرنا ہی اصل بدلہ ہے۔ مقررین نے کہا کہ پشتون قومی سیاسی تحریک کی سیاسی جدوجہد کی تاریخ تمام دنیا پر واضح ہے کہ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی اور باچا خان کی قیادت میں انگریز استعمار گروں اور پھر پاکستان کے استعماری حکمرانوں کے خلاف ہماری تحریک نے عدم تشدد کی اصولوں پر سختی سے قائم رہتے ہوئے اپنے آئینی، اسلامی اور عالمی طور پر تسلیم شدہ مسلمہ قومی سیاسی اور بنیادی انسانی حقوق کے لیئے پر امن جدوجہد کی ہے۔ مگر ہماری قومی سیاسی تحریک کے ہر مرحلے میں استعماری حکمرانوں نے ریاستی طاقت سے ہماری پر امن قومی سیاسی تحریک کوکچلنے کی اقدامات اٹھائیں ہیں۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران تاریخی افغانستان اور پاکستان میں آباد پشتون افغان ملت پر عالمی دہشتگردی کی ایسی خونریز جنگ مسلط کی گئی ہے کہ جس کی مثال اقوام عالم کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اور آج بھی افغانستان اور پاکستان میں آباد پشتون افغان ملت کے قومی رہنماؤں اور معصوم عوام کا قتل عام جاری وساری ہیں۔ ملی شہید محمد عثمان خان کاکڑ کی شہادت بھی پشتون افغان کی قتل عام کا ایک اور استعماری اقدام ہے۔ مقررین نے کہا کہ ہمارے وطنپال اور باشعور عوام نے اپنے قومی بقاء اور اپنی جان ومال اور عزت وناموس کی تحفظ کیلئے باہم متحد ومنظم ہوکر محکومی اور تباہ حالی سے نجات حاصل کرنے کیلئے فیصلہ کن جدوجہد کیلئے تیار رہنا ہوگا۔ اور اس عظیم قومی ہدف کے حصول کیلئے اپنی نمائندہ قومی سیاسی پارٹی کے صفوں میں خود کو منظم کرنا ہوگاکیونکہ ایک منظم قومی سیاسی پارٹی کی وجود کے بغیر قومی نجات حاصل کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے ضلع موسیٰ خیل کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملی شہید محمد عثمان خان کاکڑ کی شہادت کے المناک قومی سانحہ پر پارٹی کے احتجاجی تحریک میں بھرپور شرکت کرکے احتجاجی مظاہرے اور جلسے کو کامیاب کیا۔ مقررین نے جنوبی پشتونخوا کے تمام عوام اور جمہوری قوتوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ تمام ضلعوں میں ملی شہید کی شہادت پر پارٹی کے احتجاجی تحریک کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔


