یونیورسٹی کیمپسز کے خاتمہ کی سازشیں کی جارہی ہیں،پشتونخوامیپ

کوئٹہ:پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی پریس ریلیز میں نااہل مسلط صوبائی حکومت کی جانب سے ضلع قلعہ سیف اللہ میں کوئٹہ یونیورسٹی کے سب کیمپس کے خاتمے، ضلع پشین کیمپس میں مختلف شعبوں (ڈیپارٹمنس) کو بند کرنے اور مسلم باغ کے (Under Progress)کیمپس منصوبے کو فائلوں تک محدود کرنے کو تعلیم دشمنی پر مبنی اقدامات قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتونخوامیپ نے اپنے مخلوط دور حکومت میں تعلیم کے شعبے میں خاطر خواہ اقدامات کرتے ہوئے پشتون بلوچ صوبے کے مختلف اضلاع میں نئے یونیورسٹیوں، میڈیکل کالجز،کوئٹہ یونیورسٹی، سردار بہادر خان وومین یونیورسٹی اور بیوٹمز یونیورسٹی کے سب کیمپسز کا قیام عمل میں لایاگیا تھا اوراسی طرح لاء کالج، زرعی کالج،خضدار انجینئرنگ کالج،بولان میڈیکل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے، پرائمری سکولوں کی تعمیر،پرائمری ومڈل سکولوں کی اپ گریڈیشن، مختلف ہائی سکولوں کو ہائیر سیکنڈری کا درجہ دیا گیا تھا اور ان میں تعلیمی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے پبلک سروس کمیشن اور ٹیسٹنگ سروسز کے ذریعے ہزاروں اساتذہ کی تعیناتیوں، سٹاف، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروریات کوفراہم کرنے کیلئے اقدامات کیئے گئے اور تعلیم کے فنڈکو 2فیصد سے بڑھا کر 24فیصد اضافہ کردیاگیا تھا۔ضرورت اس امر کی تھی کہ موجودہ حکومت شعبہ تعلیم کو ترجیحی دیتے ہوئے اس کے فنڈز میں مزید اضافہ کرتی اور شعبہ تعلیم کے فروغ کیلئے مزید اقدامات اٹھاتی لیکن سلیکٹڈ حکومت جہاں ایک جانب ہر شعبہ زندگی میں عوام کو ریلیف دینے، امن وامان اور ترقی وخوشحالی دینے میں بدترین طور پر ناکام ہوئی ہے وہی دوسری جانب اب تعلیم دشمنی پر مبنی اقدامات اٹھا کر پشتون اضلاع میں یونیورسٹی کے سب کیمپسز کاخاتمہ کررہی ہے پشین کیمپس میں مختلف شعبوں (ڈیپارٹمنٹس) کوختم کرکے چند ایک شعبوں کے ذریعے کیمپس میں تعلیمی سلسلے کو بحال رکھنا ممکن نہیں کیونکہ طلباء وطالبات دیگر شعبوں کیلئے یا تو پھر کوئٹہ کے دیگر یونیورسٹی کا رخ کرینگے یا پھر تعلیمی سلسلے کو ختم کرنے پر مجبور ہونگے جبکہ قلعہ سیف اللہ میں کوئٹہ یونیورسٹی کے سب کیمپس کو مکمل طو ر پر ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے حالانکہ اس وقت مذکورہ کیمپس میں سینکڑوں طلباء اور طالبات بی ایس اور بی ایڈ کی کلاسز لے رہے ہیں اور ان میں 40فیصد طالبات ہیں۔اورمسلم باغ کیمپس جو کہ عمل کے تحت (Under Progress)ہے کو فائلوں تک محدود کرتے ہوئے کیمپس کو منصوبے کو کو سرے سے ہی غائب کیا جارہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتون اضلاع میں یونیورسٹی کے کیمپسز کے خاتمے کیلئے ناکام سازشیں کی جارہی ہیں اور ایسے متعصبانہ اور علم دشمنی پر مبنی اقدامات کی روک تھام انتہائی ضروری ہے۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی ان سازشوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیگی

اپنا تبصرہ بھیجیں