کوئٹہ میں سیوریج کے پانی سے سبزیوں کی کاشت پر ہائی کورٹ کا اظہارِ تشویش، واسا اور متعلقہ اداروں سے رپورٹس طلب
کوئٹہ (آئی این پی)بلوچستان ہائی کورٹ نے کوئٹہ اور ملحقہ علاقوں میں غیر صاف شدہ سیوریج کے پانی سے سبزیوں اور چارے کی فصلوں کی آبپاشی کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل، بلوچستان انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی، منیجنگ ڈائریکٹر واسا اور ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ کو آئندہ سماعت تک جامع رپورٹس پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے۔جسٹس اقبال احمد کاسی اور جسٹس میاں محمد رو¿ف عطا پر مشتمل بلوچستان ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ماہر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، ڈائریکٹر جنرل بلوچستان انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی، مدعا علیہ نمبر 5 کے وکیل، منیجنگ ڈائریکٹر واسا کے وکیل اور ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت کو بتایا گیا کہ مدعا علیہ نمبر 6 کی جانب سے پیرا وائز کمنٹس جمع کرا دیے گئے ہیں، جنہیں ریکارڈ کا حصہ بنا لیا گیا، جبکہ درخواست گزار کے وکیل کو ان کی نقل فراہم کردی گئی۔ عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ وہ مدعا علیہان نمبر 1 تا 3 کی جانب سے پیرا وائز کمنٹس جمع کرائیں، جبکہ مدعا علیہ نمبر 5 کے وکیل کو بھی دفتر میں پیرا وائز کمنٹس جمع کرانے اور ان کی پیشگی نقل درخواست گزار کے وکیل کو فراہم کرنے کا حکم دیا، تاکہ آئندہ کارروائی کے لیے معاملے کو تیار کیا جاسکے۔عدالت نے ڈائریکٹر جنرل بلوچستان انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی، منیجنگ ڈائریکٹر واسا اور ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت تک تفصیلی رپورٹس جمع کرائیں، جن میں درخواست میں اٹھائے گئے نکات، غیر صاف شدہ سیوریج کے پانی کے استعمال کی روک تھام کے لیے کیے گئے اور مجوزہ اقدامات کی وضاحت شامل ہو۔دورانِ سماعت عدالت نے قرار دیا کہ اس معاملے کے مو¿ثر اور جامع فیصلے کے لیے ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی کو بھی فریق بنانا ضروری ہے۔ چنانچہ درخواست گزار کے وکیل کو ہدایت کی گئی کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کو بطور مدعا علیہ نمبر 7 درخواست میں شامل کیا جائے۔ اس ضمن میں ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد عدالت کا دفتر نئے فریق کو نوٹس جاری کرے گا اور آئندہ سماعت سے قبل پیرا وائز کمنٹس طلب کرے گا۔عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ درخواست میں عوامی اہمیت کا نہایت اہم مسئلہ اٹھایا گیا ہے، جس کا تعلق سیوریج کے غیر صاف شدہ پانی سے سبزیوں اور چارے کی فصلوں کی آبپاشی اور اس کے نتیجے میں انسانی و حیوانی صحت کو لاحق خطرات سے ہے۔ عدالت کے مطابق صحت عامہ، خوراک کے تحفظ اور ماحولیاتی آلودگی سے متعلق درخواست گزار کے خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔عدالت نے مزید نشاندہی کی کہ اسی نوعیت کا معاملہ اس سے قبل بھی آئینی درخواست نمبر 813/2019 کے تحت زیرِ سماعت آچکا ہے، جس میں متعلقہ حکام کو تفصیلی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ تاہم موجودہ درخواست میں غیر صاف شدہ سیوریج کے پانی سے زرعی زمینوں کی آبپاشی جاری رہنے کے الزامات اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ سابقہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کے اقدامات کی مو¿ثریت کا جائزہ لیا جائے۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ غیر صاف شدہ سیوریج کے پانی میں سنکھیا، بھاری دھاتیں اور دیگر مضر آلودہ مادے موجود ہوسکتے ہیں، جو فصلوں میں جذب ہوکر انسانی اور حیوانی خوراک کے ذریعے صحت کے لیے سنگین اور طویل المدتی خطرات پیدا کرسکتے ہیں۔ لہٰذا اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے محض رسمی کارروائی کی بجائے مربوط، مو¿ثر اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔عدالت نے واضح کیا کہ متعلقہ حکام کی رپورٹس میں سیوریج کے پانی سے آبپاشی کی موجودہ صورتحال، خارج کیے جانے والے پانی کے معیار، غیر صاف شدہ پانی کے استعمال کی روک تھام کے اقدامات، سیوریج کے مناسب ٹریٹمنٹ اور محفوظ طریقے سے تلف کرنے کے انتظامات اور آئینی درخواست نمبر 813/2019 میں جاری کردہ عدالتی ہدایات پر عمل درآمد کی تفصیلات شامل ہونی چاہئیں۔ اس کے علاوہ کوئٹہ اور ملحقہ علاقوں کے عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے آئندہ کیے جانے والے اقدامات کی بھی نشاندہی کی جائے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کرتے ہوئے حکم کی نقل معلومات کے لیے دفتر ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان اور تعمیل کے لیے متعلقہ حکام کو ارسال کرنے کی ہدایت کردی۔


