وفاق نے تعاون نہیں کیا، صوبوں کو ساتھ لے کرچلے،بلاول بھٹوزرداری

کراچی:پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث صورتحال بہت خطرناک ہے،وفاق صوبوں کو ساتھ لیکر چلے مگراس نے تعاون نہیں کیا،سندھ حکومت کوروناپر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے،وفاقی وزرا کے بیان اور ویڈیو پیغامات دیکھیں تومحسوس ہوتا ہے وہ کورونا کے بجائے سندھ حکومت سے لڑرہے ہیں، عوام کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے ان کی زندگی کے تحفظ کے تمام اقدامات کئے جائیں،عالمی ادارہ صحت کی تجاویز پر عمل کرنا چاہیے،وہ اقدامات کرناچاہئیں جس سے عوام کی زندگی اور صحت بچا سکیں، ڈبلیو ایچ نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے لاک ڈاؤن جلدی میں ختم کرنے کے بجائے جاری رکھنے کا مشورہ دیاہے،کوئی بھی ایک شہر یا صوبہ اکیلے اس وبا کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ہم تنہا لاک ڈاؤن نافذ نہیں کر سکتے، ہم درخواست کر رہے ہیں گھر میں رہیں اور جان کا تحفظ کریں جبکہ ہمارے صوبے کا گورنر دکانیں کھولنے اور کام کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے،اس سے لاک ڈاؤن کی افادیت کم ہوگی۔لاک ڈاؤن کا مطالبہ بیماری کا پھیلا ؤروکنے اورمشتبہ لوگوں کے ٹیسٹ کر کے نشاندہی کرنے کیلئے کیا تھا، کورونا وائرس دنیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے، یہ حقیقت جانتے ہوئے صحت عامہ کا کمزورملکی نظام جنگی بنیادوں پر مستحکم کرناضروری تھا،ہمارا مطالبہ ہے ایک قوم بن کر عوام کی زندگی بچانے کے اقدامات کریں، ہمیں حقائق کے مطابق چلنا چاہیے۔ ایک خصوصی انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ ہم مل کر متفقہ پالیسی دینا چاہتے ہیں،وفاق، ملک کی قیادت کرے اور وہ کردار ادا کرے جو اس کی ذمہ داری ہے،صوبوں کو ساتھ لے کر چلے،عوام کی صحت اور زندگی بچانے کے اقدامات کرے۔ اگر وفاق کوئی اور قدم اٹھانا چاہتا اور رعایت دینا چاہتا ہے تو اس سے وائرس کا پھیلا ؤاورمتاثرین کی تعداد بڑھے گی۔وفاق تیاری کرے اور صحت عامہ کا نظام بہتر کرنے کیلئے تعاون کرے تاکہ اس کا پھیلا مقابلہ کرنے کی تیاری کر سکیں۔تعمیراتی شعبہ کھولنے کے حوالے سے انہوں نے کہا اگرپاکستان یہ پیغام دیتا ہے کہ غریب کی صحت یا جان خطرے میں ہوتی ہے تو ہو جائے،امیر لوگ گھر میں رہ کر اپناتحفظ کر سکتے ہیں توبہت غلط تاثر جائے گا۔ ہم جانتے ہیں کورونا سے غریب عوام کو زیادہ نقصان ہوگا،غریب علاقوں میں اگر یہ بیماری پھیل جاتی ہے تو عالمی ادارے نے بھی نشاندہی کی ہے کہ یہ عالمی بحران بن سکتا ہے، ہمارے عوام کی تعداد آپ کے سامنے ہے۔بلاول بھٹوزرداری نے کہاکہ تعمیراتی صنعت کو دنیا میں لازمی سروس قرار نہیں دیا گیا،اگر اسے لازمی سروس قرار دیا جاتا ہے اور کھولنے کی اجازت دی جاتی ہے تو ہم امید رکھتے ہیں وفاق تمام صوبوں کواپنے صحت عامہ کا نظام بنانے میں تعاون کرے گا تاکہ اس فیصلے کے باعث مریضوں کی جو تعداد بڑھے گی،اسے سنبھال سکے۔وفاقی وزرا کی بیان بازی افسوسناک ہے،جب کورونا پھیلنا شروع ہوا توکہاتھا ہم سیاسی بیان بازی نہیں چاہتے، ہم اپنے وزیراعظم کی جانب دیکھ رہے ہیں،وفاق وہ کردار ادا کرے جو اس کی ذمہ داری ہے،میں نے اپنے بیان پر پورا اترنے کی کوشش کی۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ عالمی بحران میں سیاسی پوائنٹ سکورنگ افسوسناک اور شرم ناک ہے،جہاں تک سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے،میں اپیل کروں گاکورونا کے پیش نظرقیدیوں کے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کرے، جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں،ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے،سب کوموت کی سزا بھی نہیں دی گئی،اگرانھیں کورونا کا شکار ہونے دیں گے تو یہ بے رحمانہ سزا ہوگی۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ایران نے 85 ہزار قیدی عارضی طور پر چھوڑ دیئے جبکہ 10ہزار قیدیوں کو معافی دے دی،پاکستان بھی انسانی بنیادوں پر نظر ثانی کرے،اگر قیدیوں کی صحت اور جان خطرے میں ہے تو ازخود نوٹس لیا جا سکتا ہے، ہم جتنی دیر کریں گے، اتنا نقصان ہوگا۔ پیپلزپارٹی نے قومی یکجہتی کے اقدامات کئے،کل جماعتی کانفرنس بلائی پھر سپیکر قومی اسمبلی کی دعوت پر پارلیمانی کانفرنس میں شرکت کی مگر وزیراعظم کانفرنس چھوڑگئے،قومی یکجہتی کیلئے آج بھی قدم اٹھانے کیلئے تیار ہیں، اس راستے میں خان صاحب کی انا واحد رکاوٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں جتنے بھی بڑے مسائل اٹھے، چاہے وہ کشمیر کا معاملہ ہو یا معاشی بحران یا عالمی وبا ہو،خان صاحب کو قومی تکجہتی پیدا کرنے میں دلچسپی نہیں،اتفاق رائے پیدا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے،وہ اپوزیشن اور اتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے۔پیپلزپارٹی سوات آپریشن اور سانحہ اے پی سی کے حوالے سے سب کو ساتھ لے کر چلی۔بلاول نے کہا کہ پاکستان دنیا میں واحد ملک ہو گا جو کورونا کا مقابلہ تو کر رہا ہے مگراس کے وزیراعظم نے قائد حزب اختلاف کو فون تک نہیں کیا،بورس جانسن نے اپوزیشن رہنما سے رابطہ کیا، امریکہ میں حکومت، اپوزیشن مکالمہ ہوتا ہے۔ہم نے پہلے دن ہی حکومت سے تعاون کا اعلان کیامگر وفاق نے قومی یکجہتی کی کوشش نہیں کی،ہماری توجہ عوام کی صحت اور زندگی بچانے پر ہے،اپوزیشن تقسیم نہیں،تمام رہنماں سے رابطہ ہے،اس وقت کورونا کا مقابلہ اور زندگی بچانا چاہیے۔بلاول بھٹو نے کہا خدانخواستہ ہم خطرناک صورتحال کی طرف جا سکتے ہیں،جتنے زیادہ ٹیسٹ ہونا چاہئیں تھے،وہ نہیں ہوئے۔وفاق نے کسی صوبے سے تعاون نہیں کیا،جنگی بنیادوں پرصحت کا نظام بہتر کرنا چاہیے تھامگر وفاقی حکومت نے پیسے نہیں دیئے،اگر مریضوں کی تعداد بڑھتی ہے تو ہمارے ہسپتال اور طبی عملہ مقابلہ نہیں کر سکے گا، بستراورآئی سی یو کم پڑ جائیں گے، سڑکوں پرمریضوں کا علاج کر رہے ہوں گے ہمارے پاس وینٹی لیٹر کم اور ٹینک زیادہ ہیں۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے صحت کوہمیشہ ترجیح دی، پچھلے دس برسوں میں سندھ نے باقی صوبوں سے زیادہ ہسپتال بنائے لیکن ہمارے ہسپتال بھی کم پڑ جائیں گے،کسی بھی ترقی یافتہ ملک کا نظام صحت اس طرح فعال نہیں کہ اس وبا کا بوجھ اٹھا سکے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں