پولیس اہلکاروں کا عام شہریوں کو تنگ کرنا معمول بن چکا ہے، بی ایس او پجار

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کے مرکزی ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کے جرائم میں ملوث افراد انہیں وار ڈریس میں ملبوس افراد کے سامنے سے جرم کرکے نکل جاتے ہے لیکن آج تک کوئی ایک شخص گرفتار نہیں ہوا۔ گزشتہ روز امیر دستی تھانہ سبزل روڈ کے کچھ نقاب پوش افراد نے بی ایس او پجار کے سی سی ممبر آغا سلمان شاہ کو بلا وجہ روک کر اس سے غیر متعلقہ سوالات کئے اور الزام لگایا کے آپ کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے ہے جس سے یہ بات واضح ہے کے وہاں موجود پولیس اہلکار حسب سابق سی سی ممبر آغا سلمان شاہ کو بھی فیضان جتک کی طرح نقصان پہنچانے کے درپے تھے لیکن بروقت تنظیم کے ایکشن نے تھانے میں موجود قاتلوں کے ارادے خاک میں ملا دئے۔ کوئٹہ شہر میں تمام چوری و ڈکیتی کے واردات ایگل اسکواڈ کے اجازت سے ممکن نہیں ایوب اسٹیڈیم،  بی ایم سی ہسپتال، عیسی نگری اور سبزل روڈ کے ویران علاقے ایگل اسکواڈ کے ٹارچر سیل بن گئے ہیں۔ تھانے سے چوری کے گاڑیوں کا پتہ لگانے کی بجائے ان سے لین دین کے لئے باقاعدہ طور پر لوگ رکھی ہے جو چوروں سے رابطہ کرکے گاڑیاں واپس دیتے ہیں۔ کوئٹہ کے پولیس تھانوں کے موجودہ ایس ایچ او کے ٹیلیفونوں اگر ٹیپ کیا جائے تو 80 فیصد وارداتیں ختم ہوجائے گی لیکن وزیر داخلہ و آئی جی پولیس اس معاملے پہ خاموشی کی وجہ صاف ظاہر ہے کے وہ بھی ان معاملات میں شامل ہے۔ ہم امیر دستی تھانہ سبزل روڈ کے ان تمام اہلکاروں کے نوکری سے برخاست کا مطالبہ کرتے ہیں اگر ان غنڈوں اور بدمعاشوں کے خلاف فوری کاروائی نا ہوئی تو تھانے کے سامنے دھرنا سمیت کسی قسم کے احتجاج سے گریز نہیں کرینگے.

اپنا تبصرہ بھیجیں