کوہلو،اسپورٹس اسٹیڈیم اور فیملی پارک کا تعمیراتی کام 5سال سے التواء کا شکار
کوہلو: بلوچستان حکومت صوبے میں کھیل اور تفریح کو فروغ دینے کے یوں تو بلند بانگ دعوے کرتی نظر آتی ہے مگر ضلع کوہلو کے اسپورٹس اسٹیڈیم اور فیملی پارک کا تعمیراتی کام گزشتہ 5سالوں سے التواء کا شکار ہے جس کی وجہ سے ضلع کے نوجوانوں کا جہاں کھیل کے میدان نہ ہونے سے مشکلات درپیش ہیں وہی تعمیراتی کام کے التواء سے غیر معیاری میٹریل اور کرپشن کا انکشاف بھی ہوا ہے جس سے خدشہ پیدا ہوا ہے کہ کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے اسپورٹس اسٹیڈیم اور فیملی پارک کے فوائد سے ضلع کے لوگ محروم ہیں بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری کے دور حکومت میں 7کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے تعمیر ہونے والا اسپورٹس اسٹیڈیم اور فیملی پارک جس کو 3سال کے قلیل مدت میں مکمل ہونا تھا تاہم چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے سے تعمیراتی کام گزشتہ 5سالوں سے التواء کا شکار ہے جس کی وجہ سے یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ کروڑوں روپے کرپشن کی نظر ہوجائیں گے کوہلو میں کھیل سے تعلق رکھنے والے نوجوان کھیلا ڑیوں نے اسپورٹس اسٹیڈیم اور فیملی پارک کے زیر التواء تعمیراتی کام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے انہوں نے کہا کہ صوبے میں ترقی اور خصوصی طور پر کھیل کے میدانوں کو آباد رکھنے کے حوالے سے یوں تو صوبائی حکومت بلند بانگ دعوے کرتی ہے مگر المیہ یہ ہے کہ ضلع کا واحد اسپورٹس اسٹیڈیم اور فیملی پارک گزشتہ 5سال سے ٹھیکیداروں اور حکومتی نمائندوں کا راہ تک رہے ہیں مگر کئی دوروں اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کے احکامات بھی متعلقہ حکام نے ہوا میں اڑا دئیے ہیں جس سے خدشہ ہے کہ یہ میگا پروجیکٹ کرپشن اور غیر معیاری میٹریل کا شکار ہوگا کوہلو میں اس وقت کھیلاڑیوں کے پاس کھیلنے کے لئے کوئی میدان نہیں ہے جس سے ان کی صلاحتیں ضائع ہورہی ہیں کھیل کے میدانوں کو آباد کرکے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہیں مگر یہاں الٹی گنگا بہہ رہا ہے جہاں دیگر پروجیکٹس کی طرح اس پروجیکٹ کو بھی نہیں بخشا جارہا ہے ہماری وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، صوبائی وزیر کھیل در محمد،رکن صوبائی اسمبلی میر نصیب اللہ،کمشنر سبی ڈویژن اور اینٹی کرپشن بلوچستان سے مطالبہ ہے کہ کوہلو کے اسپورٹس اسٹیڈیم اور فیملی پارک کے تعمیراتی کام میں التواء کا فوری نوٹس لیکر متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے تاکہ میگا پروجیکٹ کے کروڑوں روپے ضائع ہونے سے بچ جائیں۔


