اشرافیہ اور سرداروں کو ایک عام بلوچ سرفراز بگٹی کا وزیراعلیٰ بننا ہضم نہیں ہورہا، علی مدد جتک
کوئٹہ:پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی علی مدد جتک نے نواب محمد میر عالی بگٹی کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے حقائق کے منافی، سیاسی مایوسی اور سرداری انا کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری حکومت اور وزیر اعلی بلوچستان پر بے بنیاد الزامات لگا کر سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ نواب میر عالی بگٹی خود ایک انتہائی نااہل شخص ہیں جنہوں نے گزشتہ بائیس سالوں سے اپنے ہی آبائی علاقے ڈیرہ بگٹی کا چہرہ تک نہیں دیکھا۔ جو شخص اپنے قبیلے اور علاقے کے لوگوں کے سکھ دکھ میں شامل نہ ہو۔ اسے دوسروں پر تنقید کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے قبیلے اور علاقے کا استحصال کیا اور وہاں کے معصوم عوام کو جان بوجھ کر پسماندگی اور اندھیروں میں دھکیلا تاکہ ان کی سرداری قائم رہے۔صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ نواب میر عالی بگٹی کی پوری زندگی اپنے ہی غریب قوم سے بھاری چندے بٹورنے میں گزری ہے، انہوں نے عوام کو دینے کے بجائے ہمیشہ ان سے چھینا ہے جبکہ ان کے برعکس، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنی انتھک محنت، سیاسی شعور اور شب و روز کی جدوجہد سے اپنے علاقے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔وزیر اعلی میر سرفراز بگٹی نے ڈیرہ بگٹی کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے وہاں کے نوجوانوں کو تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور روزگار کی تمام بنیادی اور جدید سہولیات فراہم کرنے کی مخلصانہ کوششیں کی ہیں اور ڈیرہ بگٹی کو ایک ماڈل ضلع بنایا جن کے نتائج سب کے سامنے عیاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان ایک عام گھرانے سے اٹھ کرعوام کی طاقت اور ووٹوں سے منتخب ہو کر اس منصب پر فائز ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ روایتی اشرافیہ اور سرداروں کو ایک عام بلوچ کا وزیراعلیٰ بننا ہضم نہیں ہو رہا اور بلوچستان کو مقتل گاہ حکومت نے نہیں بلکہ ان مٹھی بھر دہشتگردوں نے بنایا ہے جنہیں انہی بعض مفاد پرست عناصر کی خاموش حمایت حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ زیارت اور ہنہ اوڑک کے ان المناک واقعات جن میں ہماری بہادر پولیس جوان اور غیرت مند شہری شہید ہوئے پر حکومت نے فوری ایکشن لیا اور دہشتگردوں کی سرکوبی کے لئے آپریشن شعبان کامیابی سے جاری ہے، سیکیورٹی فورسز اپنی جانیں قربان کر کے عوام کے جان و مال کا تحفظ کر رہی ہیں۔ ۔حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی اور بلوچستان اب کسی کی ذاتی جاگیرنہیں رہا۔یہاں کا بچہ بچہ بیدار ہو چکا ہے اور وہ بندوق یا سرداری رعب کے بجائے قلم، تعلیم اور ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔ عالی بگٹی صاحب چندہ خوری اور بیرون صوبہ بیٹھ کر بیانات داغنے کے بجائے اب پرانی روش بدلیں اور صوبے کی ترقی کو تسلیم کریں۔بلوچستان کے دروازے تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے کھلے ہیں۔ حکومت ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہونے والوں کا خیرمقدم کرتی ہے۔ مگر ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والے عناصر کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی اور بلوچستان کو امن و خوشحالی کا گہوارہ بنا کر دم لے گی۔


