ڈیجیٹل میڈیا پالیسی 2026 آزادی صحافت، مقامی صحافت، اور جمہوری اقدار کیخلاف، پالیسی کو مسترد کرتے ہیں، نیشنل پارٹی

کوئٹہ (آن لائن) نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے جاری بیان میں بلوچستان حکومت کی ڈیجیٹل میڈیا پالیسی 2026 کو آزادی صحافت، مقامی صحافت، عوام کے حقِ معلومات اور جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ۔ترجمان نے کہا کہ یہ پالیسی درحقیقت بلوچستان کے مقامی اخبارات و جرائد کو ختم کرنے، صحافی برادری کو معاشی عدم تحفظ سے دوچار کرنے اور اظہارِ رائے کی آزادی کو محدود کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ بلوچستان کے مقامی اخبارات گزشتہ کئی دہائیوں سے عوامی مسائل حکومتی کارکردگی، علاقائی محرومیوں اور دور افتادہ علاقوں کی آواز بنے ہوئے ہیں۔ اگر یہ پالیسی نافذ کی گئی تو نہ صرف درجنوں اخبارات بند ہونے کے خدشات پیدا ہوں گے بلکہ ان سے وابستہ صحافی ایڈیٹرز، کمپوزرز پرنٹنگ ورکرز اور دیگر ملازمین بھی بے روزگار ہو جائیں گے، جس سے پہلے سے بحران زدہ صحافتی شعبہ مزید تباہی کا شکار ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی زمینی حقیقت یہ ہے کہ کوئٹہ کے علاوہ صوبے کے بیشتر اضلاع میں آج بھی انٹرنیٹ کی سہولت یا تو انتہائی ناقص ہے یا مکمل طور پر بند رہتی ہے۔ ایسے حالات میں ڈیجیٹل میڈیا کو روایتی اخبارات کا مکمل متبادل قرار دینا حقائق سے چشم پوشی اور عوام کو معلومات تک رسائی کے بنیادی حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔ آج بھی لاکھوں شہری سرکاری اعلانات، ملازمتوں کے اشتہارات، ٹینڈرز، تعلیمی معلومات اور دیگر عوامی امور کے لیے مقامی اخبارات پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر مقامی اخبارات ختم ہوئے تو صوبے کا ایک بڑا طبقہ معلوماتی اندھیرے میں دھکیل دیا جائے گا۔ترجمان نے کہا کہ انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ اس پالیسی کی تیاری میں نہ صحافتی تنظیموں کو اعتماد میں لیا گیا، نہ مقامی اخبارات کے نمائندوں سے مشاورت کی گئی، نہ سول سوسائٹی کی رائے کو اہمیت دی گئی۔ بظاہر اس پالیسی کا مقصد چند بڑے اداروں اور مخصوص مفادات کو فائدہ پہنچانا، مقامی اخبارات کو دیوار سے لگانا اور حکومت پر تنقید کرنے والی آزاد آوازوں کو کمزور کرنا ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے نیک شگون نہیں۔بیان میں کہا گیا کہ ملک کے دیگر صوبوں میں مقامی اخبارات کے فروغ اور بقا کے لیے باقاعدہ مالی معاونت، اشتہاری پالیسی اور اربوں روپے کے بجٹ مختص کیے جاتے ہیں، جبکہ بلوچستان میں پہلے ہی اخبارات کے لیے مختص بجٹ انتہائی محدود ہے۔ ایسے میں بجٹ میں اضافے کے بجائے مزید کمی کرنا نہ صرف صحافتی اداروں کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ صوبے کی کمزور میڈیا صنعت کو مکمل طور پر مفلوج کرنے کے مترادف ہوگا۔بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان حکومت ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کو فوری طور پر واپس لے، صحافتی تنظیموں، مقامی اخبارات، سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں اور میڈیا سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کے بعد ایسی جامع پالیسی تشکیل دے جو آزادی صحافت، عوام کے حقِ معلومات، مقامی اخبارات کے تحفظ اور صحافیوں کے روزگار کو یقینی بنائے۔ جمہوری معاشروں میں آزاد صحافت ریاست کی مضبوطی کی علامت ہوتی ہے، اس لیے ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو صحافت کو کمزور اور عوام کی آواز کو محدود کرنے کا سبب بنیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں