جب ملک میں غیر قانونی لشکر بنائے جائیں گے تو پھر اس پر تنقید ہوگی، مولانا واسع
کوئٹہ (آن لائن) جمعیت علماءاسلام بلوچستان کے امیر سینیٹر مولانا عبد الواسع نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز کے شہید ہی شہداءہےں جب ملک میں غیر قانونی لشکر بنائے جائیں گے تو پھر اس پر تنقید ہوگی اپنے نوجوانوں کو ناراض کریں گے تو غدار کون ہوگامولانا فضل الرحمن سے معافی کا تقاضا کرنے والے پہلے خود معافی مانگیںمولانا فضل الرحمن کی تقریر سے سب سے زیادہ مسلم لیگ (ن) کو تکلیف پہنچی ہے انہوں نے ہمیشہ فوج اور عوام کو لڑایا ہے 9 مئی کو پی ٹی آئی اور فوج کو لڑایا تھا پاک بھارت جنگ کے دوران کسی نے انڈیا کے خلاف بات نہیں صرف قائد نے ایوان میں بھارت کے خلاف بات کی اس لئے افواج پاکستان کو چاہئے کہ وہ کسی کو اپنے نام پر سیاست نہ کرنے دےں۔ مولانا فضل الرحمن کو غدار قرار دینے کی منصوبہ بندی پاکستان کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ فوج کے شہداءسمیت تمام شہداءہمارے ماتھے جھومر ہیں۔ پاکستان ہمارا ملک ہے اور علماءکرام نے ہی یہ ملک حاصل کیا ہے ۔ اتوار کو اسلام آباد میں وکلاءکنونشن ہوگا جس میں بلوچستان کے وکلاءشرکت کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے سینئر رہنماﺅں وکلاء، جمعیت لائرز فورم کے مرکزی صدر و سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ ، جمعیت لائر فورم کے صوبائی صدر علاﺅ الدین کاکڑ، صوبائی جوائنٹ سیکرٹری حاجی نواز کاکڑ، مولوی کمال الدین، مولانا عین اللہ شمس، ولی خان ناصر، علاوءالدین کاکڑ، مصور آغاسمیت دیگر بھی موجود تھے۔ مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے آل پاکستان وکلاءکنونشن کی تیاریوں سے متعلق اجلاس منعقد ہوا جس میں شرکت کے لئے مختلف فیصلے کئے گئے اور مختلف حوالوں سے غور و خوض کیا گیا انہوں نے کہا کہ پنجاب کی سرزمین میں تحریک تحفظ مدارس کاانعقاد کیاگیاجمعیت علما اسلام کی تحریک کو روکنے کی کوشش کی گئی پاکستان کی سب سے زیادہ آزاد سرزمین پنجاب کو سمجھا جاتاہے قائد جمعیت علما اسلام نے اپنی تقریر میں عوام کا مقدمہ سب کے سامنے رکھاجبکہ مولانا فضل الرحمان کی تقریر کو تنقید کا نشانہ بنایاگیا سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں نے کہا کہ ہم مولاناکی تقریر سے متفق ہیں لیکن مجبوری ہے واہگہ بارڈر کے نزدیک چند لوگوں کے تعلقات بھارت کے ساتھ بھی ہے انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت نے ہمیشہ اداروں کے مورال کو بلند کیا ہے ۔ نواز شریف نے جنرل باجوہ اور فیض حمید کے لئے جو باتیں کی تھی وہ کسی کو یاد نہیںحکمرانوں کو صرف اپنی سیاست کی پڑی ہوئی ہے،انہوں نے کہا کہ یہ حکمران فوج یا کسی ادارے کے خیر خواہ نہیںجمعیت علما اسلام بلوچستان قائد کے بیان سے متفق ہے افواج پاکستان کو چاہیے کہ وہ کسی کو اپنے نام پر سیاست نا کرنے دیںمولانا ادریس نے فیلڈ مارشل کی تعریف کی انہیں قتل کیاگیاپاک فوج کے شہدا سمیت تمام شہدا ہمارے ماتھے کاجھومر ہیںہم پاکستان کے ساتھ تھے اور رہیں گے جمعیت علما اسلام نے کبھی پاکستان کے ساتھ غداری نہیں کی۔ اس موقع پر سینٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم نے مرنے والوں کو کبھی برا نہیں کہا شہداءہمارے سر کا تاج ہے ۔ وکلاءکانفرنس میں مولانا فضل الرحمن کی تقریر رکھی جائے گی اور وکلاءکی رائے لیکر عوام کے سامنے رکھیں گے مولانا فضل الرحمن کی مکمل تقریر عوام کو سنائیں گے تاکہ مولانا فضل الرحمن سے معافی مانگی جائیں انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ سیکورٹی اداروں کا احترام کیا ہے اگر وہ کسی اور کے ذریعے مولانا فضل الرحمن کے بیان کو غلط رنگ دیکر ہم پر دباﺅ ڈال رہے ہیں تو پھر ہم بھی برملا کہتے ہیں کہ اگر ہم گئے پھر ان کے بس کی بات نہیں ہوگی لیکن نوبت یہاں تک جانی چاہئے جس سے اداروں اور عوام کے درمیان نفرت پیدا کی جائے۔


