این سی سی آئی اے کی رپورٹر حماد علی کو نوٹس، بی یوجے کی مذمت و اظہار تشویش، انصاف کا مطالبہ
کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے پیکا ایکٹ کے تحت 92 نیوز کوئٹہ بیورو سے وابسطہ رپورٹر حماد علی کو نوٹس بھیجنے اور بار بار طلب کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام صحافیوں کو کیسز ، نوٹسز اور مقدمات کے ذریعے دبانے اور ہراساں کرنے کے جاری سلسلے کی کڑی ہے۔ بی یوجے کے صدر منظور احمد رند ، جنرل سیکرٹری شاہ حسین ترین ، کابینہ اور مجلس عاملہ کے اراکین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ این سی سی آئی اے کی جانب سے 92 نیوز کے رپورٹر حماد علی کو ڈیفی میشن کا نوٹس جس خبر پر جاری کیا گیا وہ ایک نہیں بلکہ کئی دیگر میڈیا چینلز پر بھی چلی ہے۔ 92 نیوز کے رپورٹر کو طلب کرنے پر این سی سی ائی اے کوئٹہ سینٹر میں پیش ہوئے اور اپنا تحریری بیان بھی جمع کروادیا۔ اس کے باوجود اسے بار بار طلب کیا جانا تشویشناک ہے۔ اور دبا میں لانے کے مترادف ہے۔ این سی سی آئی اے نے جس شخص کی شکایت پر کارروائی کا آغاز کیا 92 نیوز پر اس حوالے سے نشر ہونے والی خبر اسلحہ کیس میں درج ایک متن پر مبنی ہے اور اس خبر میں اس شخص کا ذکر تک نہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے یہ عمل صحافیوں کو دبا میں لانے اور آزادی صحافت پر کھلا حملہ ہے بی یوجے قیادت نے بلوچستان حکومت،آئی جی پولیس بلوچستان اور این سی سی آئی اے کے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کا نوٹس لیکر انصاف کے تقاضوں کو پورا کریں ۔ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس اس سلسلے میں 92 نیوز کے رپورٹر حماد علی کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر سطح پر این۔سینسی آئی اے کے اس اقدام کے خلاف آواز اٹھائے گی۔ صحافیوں کیخلاف کالے قوانین کے ذریعے مقدمات اور ان کو پیشہ وارانہ فرائض سے روکنے کے ہتھکنڈوں کی اجازت نہیں دے سکتے۔


