بلوچستان میں 6ماہ کے دوران غیرت کے نام پر قتل میں اضافہ
کوئٹہ:بلوچستان میں 6ماہ کے دوران 27خواتین غیرت کے نام پر قتل کردی گئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے علاقے مسلم باغ سے تعلق رکھنے والی بی بی خدیجہ(فرضی نام)کی شادی 12سال قبل ضیا الدین سے ہوئی اب سے کچھ عرصہ قبل میاں بیوی کوئٹہ کے علاقے غوث آبادمیں اپنی زندگی گزاررہے تھے۔ گھریلو ناچاقی اور شوہر کی جانب سے کیاجانے والے تشدد کے باعث بی بی خدیجہ(فرضی نام)10ماہ قبل اپنے شوہر سے طلاق لینے پر مجبور ہوئیں اب وہ اپنے رشتہ داروں کے ہمراہ مسلم باغ میں اپنے زندگی کا باقی حصہ گزار رہی ہیں۔بی بی خدیجہ(فرضی نام)کے 6بچے ہیں جن میں 4بیٹیاں اور 2بیٹے شامل ہیں جو اپنے والد کے ساتھ رہ رہے ہیں کچھ روز قبل خدیجہ جب علاج کی غرض سے کوئٹہ کے سول ہسپتال پہنچی تو انہوں نے اپنے بچوں سے ملنے کا فیصلہ کیا۔بی بی خدیجہ(فرضی نام)جب اپنے بچوں سے ملی تو ان کی 12سالہ بیٹی آمنہ(فرضی نام)نے والدہ سے ڈرتے ہوئے کہاکہ بابا نے میرے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے۔ جس کے بعد خدیجہ متاثرہ بیٹی کو ہسپتال لے گئیں جہاں ایک خاتون ڈاکٹر نے بچی سے زیادتی کی تصدیق کی۔پولیس سے حاصل کردہ ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزم ضیا الدین کے خلاف تعزیرات پاکستان کے دفعہ376کے تحت بچی کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کردیاگیاہے۔دفعہ 376 کے تحت اگر ملزم پہ جرم ثابت ہوجائے تو انہیں سزائے موت یا پھر کم از کم 10سال اور ذیادہ سے ذیادہ 25 سال سزا سمیت جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔ دفعہ 376 ناقابل ضمانت۔سال 2018 کے دوران خواتین پر تشدد کے 145واقعات میں 56خواتین اور 25مرد قتل ہوئے جن میں 35خواتین اور19افراد کو غیرت کے نام پر قتل ہوئے بلوچستان میں سال 2019 کے دوران خواتین پرتشدد کے 118واقعات میں 69خواتین اور 11مرد قتل ہوئے ہیں ان کیسز میں سب سے زیادہ 43خواتین اور 9مرد غیرت کے نام پر قتل کئے گئے ہیں۔بلوچستان میں سال 2020 کے دوران خواتین پر تشدد کے مجموعی طور پر 47 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ ان واقعات میں 16 خواتین اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور 7کو ریپ کا نشانہ بنایا۔ماہر نفسیات کا ماننا ہے کہ گھریلو تشددکے وجوہات میں معاشی،معاشرتی اور نفسیاتی مسائل کارفرما ہیں۔وومن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی ششماہی رپورٹ کے مطابق جنوری 2021 سے لیکر جون 2021 تک گھریلو تشدد کے کل63 کیسز درج ہوئے ہیں۔ جس میں 19معاشی معاملات، 9 کیسز کو قانونی معاونت 10 کیسز میں کونسلنگ فراہم کی گئی۔جسمانی تشدد سے متعلق 10 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس میں 2 کوقانونی معاونت 5 کو کونسلنگ جبکہ ایک خاتون کوشلٹرہوم بھیجا گیا۔اس کے علاو ذہنی ٹارچر کے 4 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 2کیسز میں قانونی معاونت جبکہ 2کو کونسلنگ فراہم کی گئی ہے۔اسی طرح3 کیسز زبردستی شادی سے متعلق درج ہوئے ہیں جن میں سے ایک کوقانونی معاونت جبکہ دوسرے کی کونسلنگ کی گئی ہے۔ ایک کیس جو کم عمری میں شادی سے متعلق درج کیا گیا تھا، کو قانونی معاونت فراہم کی گئی ہے۔اسی طرح 9کیسز ازدواجی حقوق،بچوں کی تحویل،جہیز سے متعلق تھے جن میں تمام کیسز میں قانونی معاونت فراہم کی گئی۔ 9کیسز جانشینی سرٹیفکیٹ،5پروٹیکشن بیل اور 4کیسز پراپرٹی سے متعلق تھے۔بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے لیکن معاشی اعتبار سے پسماندہ ہے عرصہ دراز سے صوبہ بدامنی،انتہا پسندی کاشکار ہے جس کا منفی اثر مقامی لوگوں کے ذہینوں پرپڑ رہاہے قدآمت پسند معاشرے اور ناخواندگی کی وجہ سے اکثر گھریلو تشدد سے متاثرہ خواتین اپنے قانونی حقوق حاصل نہیں کرپاتیں۔شہید بے نظیر بھٹووومن سینٹروشلٹرہوم کی منیجر روبینہ زہری کہتی ہیں کہ خواتین میں آگاہی نہ ہونے کے باعث گھریلو تشدد سے متاثرہ خواتین اپنی شکایات درج نہیں کرا پاتیں جسکی وجہ سے گھریلوں تشدد کے بہت سارے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے تاہم سینٹر کا مستقل دفتر نہ ہونے کے باعث اکثر خواتین کو شکایات کے اندراج میں مشکل کا سامنا رہتا ہے۔خواتین کے حقوق پہ کام کرنے والی تنظیم عورت فاونڈیشن بھی گھریلو تشدد سے متعلق کیسز رپورٹ کرتی ہے اور پھر انہیں متعلقہ حکام بھیجتی ہے۔ عورت فاؤنڈیشن نے بلوچستان بھر سے اب تک کل 55کیسز درج کئے ہیں، جن میں 5اغوا 12 قتل،12جسمانی تشدد،24سیاہ کاری کے الزام میں قتل اور2ہراسمنٹ کے شامل ہیں۔ کل 55 کیسزمیں 36 افراد سیاہ کاری کے الزام قتل کئے جا چکے ہیں جن میں 27خواتین جبکہ 9 مرد شامل ہیں۔عورت فاؤنڈیشن نے کوئٹہ میں خواتین پرتشدد کے کل 14کیسز درج کئے ہیں جن میں 4اغوا،4قتل،4جسمانی تشدداور2ہراسمنٹ سے متعلق ہیں۔رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سب سے زیادہ 14اور ہرنائی،صحبت پور،قلعہ سیف اللہ،نوشکی،قلعہ عبداللہ میں کم سے کم ایک،ایک کیسزرپورٹ ہوئے ہیں۔عورت فاؤنڈیشن کے ریجنل ڈائریکٹر علاؤالدین خلجی کہتے ہیں کہ خواتین پر تشدد بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی جس کے اثرات نہ صرف خواتین اور بچیوں پر طویل المدتی طورپر جسمانی،جنسی اور ذہنی طور پہ رہتے ہیں۔خواتین کے قومی کمیشن کیلئے کوئی چیئرپرسن ہے اور نہ ہی کمیشن کاقیام عمل میں لیاگیاہے۔وہ کہتے ہیں کہ بلوچستان کے قبائلی سیٹ اپ میں خواتین پر تشدد کے مسئلے کو حل کرنا آسان کام نہیں،جاگیردارانہ نظام، تعلیم کا فقدان، قبائلی تنازعات اور صوبے میں موجودہ جنگ اور تنازعات کی صورتحال خواتین کی حیثیت کو مزید کمزور بنا دیتی ہے۔مقامی سطح پر قانون سے آگاہی نہ ہونے،گھریلو دباو، تھانے کچہری کے طویل چکر کے باعث اکثر کیسز کے اندراج میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔ماہر نفسیات فوزیہ بنگش مالی،معاشرتی اور نفسیاتی مسائل کو گھریلو تشدد کی وجہ گردانتے ہوئے بتاتی ہیں کہ معاشرے میں عورت پر ہاتھ اٹھانے کو غلط عمل نہیں سمجھاجاتا اور بچے گھریلو تشدد کو دیکھتے ہوئے بڑے ہوتے ہیں جس کا منفی اثر بچوں پر پڑتاہے اور یوں گھریلو تشدد کا یہ سلسلہ نسل درنسل چلتارہتاہے۔وہ مزید بتاتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں نفسیاتی مریضوں کے علاج کو معیوب اور غیر ضروری سمجھاجاتاہے جس کی وجہ سے گھریلو تشدد کے واقعات سامنے آتے ہیں گھریلو تشدد کی روک تھام کیلئے ضروری ہے کہ لوگوں میں آگاہی مہم چلائی جائیں کہ گھریلو تشدد ایک منفی عمل ہے خواتین کومعاشرے کا اہم حصہ سمجھاجائے اور اس کے ساتھ مضبوط قانون سازی پر کام کیاجائے تو گھریلو تشدد کے واقعات میں کمی آسکتی ہے۔وہ کہتی ہے کہ ہم نفسیاتی مریضوں کلینکل علاج کے علاوہ عوام میں اس بابت شعوروآگاہی کے حوالے سے سیمینارز کاانعقاد اور سوشل میڈیا کاسہارالیتے ہیں۔وومن ڈیپارٹمنٹ ڈائریکٹریٹ کی ڈائریکٹر منیزہ بتاتی ہے کہ ڈیپارٹمنٹ کو عملے کی کمی،لاجسٹک سپورٹ سمیت اختیارات کی کمی کاسامنا ہے۔اس کے علاوہ انسداد گھریلو تشدد وتحفظ ایکٹ 2014 کے رولز آف بزنس تاحال نہیں بنائے جاسکے جس کی وجہ سے قانونی امور میں مشکلات کاسامناہے اور اس کا اثر قانون کی عملداری پرپڑتاہے۔پارلیمانی سیکرٹری برائے وومن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ماہ جبیں شیراں کہتی ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت خواتین کے حقوق پر بھرپور توجہ دے رہی ہے،وومن ڈیپارٹمنٹ کوجدید خطوط پراستوار کرنے اور خواتین کے مسائل کے حل کیلئے 500ملین روپے کا بجٹ بھی مختص کیاگیاہے وسائل کی کمی کے باوجود موثر اقدامات اٹھانے کیلئے دستیاب وسائل بروئے کار لارہے ہیں۔پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت و چیئرپرسن وویمن پارلیمنٹرین کاکس فورم ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کہتی ہے کہ بلوچستان میں فرانزک لیب کا قیام قانون سازی سے مشروط ہے اس لئے ہماری کوشش ہے کہ اس متعلق مسودہ قانون کو حتمی شکل دے کر جلد از جلد ایوان میں پیش کیا جائے۔پاکستان میں لاہور اور اسلام آباد کے بعد سندھ میں بھی فرانزک لیب قائم ہوچکی ہیں جبکہ ایکٹ کی منظوری کے بعد کوئٹہ میں بھی اس کے قیام سے متعلق پیش رفت کو تیز کیا جائیگا بلوچستان میں خواتین سے متعلق قانون سازی کے حوالے سے موجودہ صوبائی اسمبلی کا کردار ماضی کے مقابلے میں نمایاں کارکردگی کا حامل ہے۔وویمن پارلیمنٹرین کاکس نے پانچ پرو وویمن بلز پر عمل درآمد اور اس کے ثمرات کا جائزہ لینے کے لئے ایمپلیمنٹیشن، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیشن پر کام کیا، کم عمری کی شادی اور خواتین و بچوں سے متعلق دیگر اہم قانون سازی جاری ہے اور توقع ہے کہ رواں اسمبلی ان تمام بلز کو منظور کرکے ایک نئی تاریخ رقم کرے گی۔بلوچستان ہائی کورٹ کے وکیل اور خواتین کے مسائل پر کام کرنے والے قاسم خان مندوخیل ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ گھریلو تشدد کے کیسز بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں تاہم عدالتی کارروائی کے دوران بنائے گئے ایس اوپیز فالو کرنے سے بھی بہت سے کیسز کو بہترطورپر حل کیا جاسکتا ہے۔لیکن بدقسمتی سے وہ ایس اوپیز ان کیمرہ سماعت،ویڈیو لنک ہویا پھرسماعت کے دوران ملزم اور متاثرہ خاتون کے درمیان بیریئرز ہوں کیونکہ متاثرہ پھر ملزم کاسامنا نہیں کرسکتی۔ گھریلو تشدد کی سماعت کرنے والی عدالت میں ماہر نفسیات موجود ہوناچاہیے تاہم حکومت کی طرف سے کوئی ماہر نفسیات تعینات نہیں کیاگیاہے۔


