خواتین پر تشدد کیخلاف دنیا بھر میں سرگرمیاں ہو رہی ہیں، ربابہ بلیدی

کو ئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں وویمن پارلیمنٹرین فورم کی چیئرپرسن ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے صوبائی سطح پر ہونے والی قانون سازی اور اٹھائے جانے والے اقدامات خوش آئند ہیں تاہم ضروری ہے کہ اس ضمن میں زیر التوا مسودہ قانون سازی پر کام تیز کیا جائے جس کے لئے مرد اراکین اسمبلی کو ڈبلیو پی سی کا ساتھ دینا ہوگا پوائنٹ آف پبلک امپارٹنس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ 25 نومبر سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں خواتین پر تشدد کے رجحان کو روکنے کے لئے 16 روزہ متحرک سرگرمیوں کی عالمی موومنٹ جاری رہتی ہے جس میں موضوع کے مطابق صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ کی مشترکہ حکمت عملی مرتب کی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ صنفی بنیادوں پر تشدد کسی ایک معاشرے یا طبقے کا المیہ نہیں اور نہ ہی اس کی لپیٹ میں صرف معاشی بدحالی کا شکار خاندان یا افراد آتے ہیں بلکہ بحیثیت ڈاکٹر یہ میرا زاتی تجربہ ہے کہ پاکستان اور دنیا بھر میں ایلیٹ کلاس بھی ان المیوں کا شکار ہے خواتین پر تشدد کے کیسز میں معاشی اور اقتصادی صورتحال یا تعلیمی خواندگی یا ناخواندگی کے قطع نظر پر تشدد روئیے حائل ہیں اور ہمیں ایسے رویوں کو بدلنا ہوگا انہوں نے کہا کہ خواتین پر ہونے والے تشدد میں سب سے زیادہ قسم ذہنی تشدد کی ہے گزشتہ دنوں کوئٹہ میں ایک ایسا کیس سامنے آچکا ہے جس میں ایک شخص اپنی سابقہ بیوی کو ذہنی اذیت دینے کے لئے بچوں پر وحشیانہ تشدد کرتا رہا تھا گو کہ یہ کیس رپورٹ ہوا اور ملزم گرفتار ہوچکا ہے تاہم ایسے واقعات ہمارے معاشرے میں اتم بدرجہ پائے جاتے ہیں لیکن رپورٹ نہیں ہوتے انہوں نے کہا کہ قانون سازی کے ساتھ ساتھ ان پر عمل درآمد بھی ضروری ہے جب تک معاشرے سے پرتشدد رویوں کا خاتمہ نہیں ہوگا قانون سازی کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہونگے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ جب ہم انفرادی طور پر اپنے رویوں کو تبدیل کریں گے تو وہ اجتماعی طور پر ہمیں نتائج دیگا صنفی مساوات کا شعور کسی ایک تنظیم یا ادارے کا کام نہیں بلکہ ذاتی اور پیشہ ورانہ حیثیت میں ہر شخص کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا تب ہی صنفی مساوات اور صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک کا خاتمہ ممکن ہے چئیرپرسن وویمن پارلیمنٹرین فورم ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے تمام اراکین اسمبلی سے درخواست کی کہ وہ اس مشن میں ڈبلیو پی سی سے تعاون کو یقینی بناتے ہوئے زیر التوا مسودہ جات پر اتفاق رائے کو فروغ دیں اور خواتین کے حقوق سے متعلق قانون سازی میں خواتین اراکین اسمبلی کی حوصلہ افزائی کریں اس طرح پوری دنیا میں بلوچستان قانون ساز اسمبلی کا ایک مثبت تاثر اجاگر ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں