صحت مند معاشرے کا قیام ہم سب کا فریضہ ہے،عوام میں شعور وآگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے،عزیز احمد جمالی
کوئٹہ: سیکرٹری صحت عزیز احمد جمالی،ڈی جی صحت ڈاکٹر علی ناصر بگٹی، پروانشل منیجر ڈاکٹر افضل خان زرکون، صوبائی منیجر مرسی کور ڈاکٹر سعداللہ خان، صوبائی ڈائریکٹر پی ایف پی اے مشتاق مینگل،ای ڈی اساس پی کے وطن یار خلجی، سی ای او سوشیوپاک امان اللہ کاکڑ اور دیگر نے کہا ہے کہ صحت مند معاشرے کا قیام ہم سب کا فریضہ ہے علماء کرام اور میڈیا ایڈز جیسے موذی مرض سے متعلق عوام میں شعور وآگاہی پیدا کرنے کیلئے ہمارے ساتھ تعاون کرے،بلوچستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعدادبڑھ کر 7ہزار تک جاپہنچی ہے اور اس تعداد میں سے بلوچستان ایڈز کنٹرول پروگرام کے پاس صرف1745 مریض رجسٹرڈہیں۔یہ بات انہوں نے بدھ کوورلڈ ایڈز ڈے کے سلسلے میں بوائے سکاوٹس میں ایڈز کنٹرول پروگرام،یونیسف،پی ایف اے پی اے،مرسی کورپاکستان،دانش،اساس پی کے،سوشیو پاک کے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ ایڈز ایک ناسور کی طرح پھیل رہ اہے جس میں اب تک دنیابھر میں لاکھوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں دنیا بھر میں روزانہ 6000افراد ایڈز کا شکار ہورہے ہیں بلوچستان جسے چھوٹے صوبے میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 7ہزار سے زائد ہے جو ایک تشویشناک بات ہے عوام میں ایڈز جیسے موذی مرض سے متعلق عوام میں شعور و آگاہی پیداکرنے کیلئے علماء کرام،پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیااپنا بھر پور کردارادا کریں تاکہ لوگوں کو ایڈزسے بچایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ نجی اورسرکاری ہسپتالوں سے ہماری اپیل ہے کہ وہ انسانی جانوں کے ساتھ مت کھیلیں بلکہ صحت مند ماحول فراہم کرنے میں اپنا کرداراد اکریں اور علاج معالجے کیلئے آنے والے مریضوں کے موذی مرض سے متعلق ٹیسٹوں کو یقینی بنائیں اور مریضوں کو خون لگاتے وقت اس بات کی تسلی کرلیں کہ آیا خون دینے والا شخص ایڈز یا کسی دوسری بیماری میں تو مبتلا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ایڈز کے خلاف لوگوں میں شعور و آگاہی پیدا کریں تاکہ ایڈز جیسے موذی مرض سے انسانی زندگیوں کو بچایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایڈز کنٹرول پروگرام کے پاس صرف 1745 مریض رجسٹرڈ ہیں رجسٹرڈ مریضوں میں کوئٹہ میں 1406،تربت میں 339مریض رجسٹرڈ ہیں بلوچستان کی گڈانی، کوئٹہ، تربت اور دیگر جیلوں میں قید قیدیوں کا جب ٹیسٹ کیا گیا توان میں سے 27 مریض ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلا پائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایڈز جنسی بے راہ روی، حجام سے شیو کرتے وقت بلیڈ تبدیل نہ کرانے،خون لگاتے وقت اسکی تشخیص نہ کرنے سے پھیل رہا ہے کوئٹہ میں 14خواجہ سرء بھی ایڈز کے مرض میں مبتلا پائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج کا دن ایڈز کے روک تھام عوام میں ایڈز سے متعلق شعور وآگہی اور ایڈز سے متاثرہ مریضوں کے ساتھ معاشرتی امتیازی رویے کے خاتمے کے طور پر منایا جارہاہے صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے ایڈز کے خلاف بھرپور مہم چلارہی ہے اور ہماری مہم کی بدولت ہی اب ایڈز میں مبتلا مریضوں میں اپنے ٹیسٹ کرنے اور علاج ومعالجے کی جانب راغب ہوچکے ہیں اور ان میں خوف کی فضاء اب ختم ہورہی ہے معاشرے کے تمام طبقات کو اس ناسور کے خلاف اپنا کردار ادا کرناہوگا


