بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا معاملہ ایک انسانی اور سماجی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے ،کبیرمحمدشہی

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدرمیرکبیراحمدمحمدشہی نے کہاہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا معاملہ ایک انسانی اور سماجی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے بلوچستان 70 سال سے نوآبادیاتی طرز استحصال کی مثال بنا ہوا ہے منصوبہ بندی کے تحت عوام کے قومی، سیاسی، معاشی اور بنیادی انسانی حقوق تک کو روند کر بلوچوں کو محکومی میں دھکیل دیا گیا ہے۔ جب جب بلوچوں نے اپنی شناخت کے تحفظ اور حقوق کے حصول کے لیے آواز بلند کی تو انہیں طاقت اور جبر کی بنیاد پر زیر کرنے کی کوشش کی گئی سیاست، شعور اور عوامی آواز کو دبانے کی خاطر شروع دن سے ہر طرح کے حربے استعمال کیے جارہے ہیں ان خیالا ت کااظہار انہوں نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر بی این پی کے زیراہتمام اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ غداری کے القابات، قید و بند، مقدمات، فوج کشی، ڈیتھ سکواڈ سمیت ہر طریقہ عوام کے خلاف آزمایاجارہاہے انہی میں سے ایک بدترین حربہ جبری گمشدگی کا ہے جس کے تحت آپ کسی کو بھی، کبھی بھی، کہیں سے بھی، کسی الزام، ثبوت اور قانون کے بغیر اغواء کر کے کسی بھی مدت تک اپنے پاس رکھیں اور اس کے ساتھ چاہے جیسا بھی سلوک کریں سالوں قید رکھیں، تشدد کریں، مار دیں، لاش مسخ کرکے پھینک دیں، کسی اجتماعی قبر میں دفن کردیں یا پھر کبھی رہا کردیں آپ کسی نظام کو کسی قانون کو جوابدہ نہیں آج بلوچستان کا ہر خاندان، ہر حصہ، ہر قبیلہ اور ہر جماعت کسی نہ کسی صورت اس عمل سے متاثر ہے لوگ انصاف کا ہر دروازہ کھٹکھٹا چکے ہیں، پرامن احتجاج کا ہر ذریعہ آزما چکے ہیں مگر کوئی قانون، کوئی منصف اور کوئی زریعہ نہیں جو اس اجتماعی سزا کا خاتمہ کرسکے۔ہم اگر ان سینکڑوں لوگوں کا زکر نا بھی کریں جو کہ چالیس پچاس سالوں سے گمشدہ ہیں اور آج تک انکے متعلق کوئی معلومات نہیں جن میں خود سردار اختر جان کے بھائی اسد مینگل بھی شامل ہیں، تب بھی صرف مشرف دور میں شروع ہونے والے آپریشن کے بعد سے موجودہ دور میں لاپتہ کیے گئے افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے اور ایسے ایسے خاندان ہیں جو دس دس بیس بیس سالوں سے اپنے پیاروں کی راہ دیکھ رہے ہیں اس دور میں بلوچوں کے خلاف انتقام اتنی شدت اختیار کرگیا کہ 2009 سے لاپتہ کیے گئے لوگوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا جن میں سے اکثر ناقابل شناخت ہوتی ہیں اور کوئٹہ میں ایسی ناقابل شناخت لاشوں کا پورا قبرستان وجود پا چکا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہاں اس گمشدہ فرد کے جو قانونی اور انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں اور اسے جن اذیتوں سے گزرنا پڑ رہا ہے وہ تو اپنی جگہ یہ عمل پورے خاندان کے لیے اجتماعی سزا ہے۔والدین عمریں گزار دیتے ہیں اپنے پیاروں کے انتظار میں لیکن اکثریت کو کوئی جواب نہیں ملتا۔ ایک نسل آ ج جوان ہوچکی ہے جن کو یہ نہیں معلوم کے انکا والد زندہ ہے یا کسی اجتماعی قبر میں دفن ہے۔ہزاروں خواتین ہیں جنکو 5، 10، 20 سالوں سے یہ نہیں معلوم کہ انکے شوہر زندہ ہیں یا وہ بیوہ ہوچکی ہیں سالوں سے لواحقین سڑکوں پر، پریس کلبز کے سامنے، اقتدار کے ایوانوں کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں، کمیشن و عدالتوں اور تھانوں کے چکر کاٹ رہے ہیں مگر کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ایک نسل انہی سڑکوں پر احتجاج کرتے اور عدالتوں کے چکر لگاتی جوان ہوگئی مگر مسئلے کا حل تو دور آج بھی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہیمیرکبیر نے کہاکہ کوئٹہ اور گوادر جیسے شہروں میں ہونیورسٹیوں کے اندر سے طلباء کو لاپتہ کیا جارہا ہے تو آپ خود سوچیں کہ ڈیرہ بگٹی، کوہلو یا پھر ا?واران میں کیا حالات ہونگے آج بھی تحفظ کے ذمہ داروں کی جانب سے عدم تحفظ اور طلباء کی جبری گمشدگیوں کے خلاف بلوچستان یونیورسٹی بند ہے۔لوگ کس سے جواب مانگیں کس سے انصاف چاہیں کہ یہاں تو لاقانونیت اور بربریت کا یہ عالم ہے کہ انصاف کی سب سے بڑی عدالت بھی بے بس اور اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرسکا۔دو ہزار بارہ (2012) میں کوئٹہ سے تین لوگوں کی جبری گمشدگی کے کیس میں خود پولیس نے گواہی دی کہ مذکورہ افراد کو سیکورٹی اہلکاروں نے اغواء کیا، پھر آئی جی ایف سی کی موجودگی میں سپریم کورٹ میں اغواء کے اس واقع کی سی سی ٹی وی فوٹیج تک چلائی گئی مگر سپریم کورٹ بار بار احکامات دیتی رہ گئی اور مذکور افراد کی لاشیں پھنک دی گئیں۔یہاں تو ایسا لگتا ہے جیسے جان بوجھ کر لوگوں کو دیوار سے لگایا جاتا ہے تاکہ پرامن جدوجہد اور آزادی اظہار کے زرائع ختم کرکے لوگوں کو انتہاوں کی طرف دھکیلا جائے اور طاقت کے استعمال کا جواز ملے۔ ابھی چار ہفتوں سے گوادر کے لوگ بنیادی ضروریات کا مطالبہ کیے پرامن احتجاج اور دھرنا دیئے بیٹھے ہیں اور حکمرانوں کے پاس انکے مسائل کا حل تو نہیں البتہ بہانے بہانے سے لوگوں کو اشتعال دلانے کے لیے اقدامات لیے جارہے ہیں تاکہ طاقت کے زور پر احتجاج ختم کیا جائے۔ پانی، بجلی دینے اور ٹرالنگ روکنے کے بجائے دھرنے کا گھیراو کرنے پانچ ہزار پولیس اہلکار گوادر بھیج دیئے گئے۔ اور کل دھرنے میں شرکت کے لیے آنے والے بزرگ سیاستدان یوسف مستی خان جوکہ کینسر کے عارضے میں بھی مبتلا ہیں انکو دھرنے سے اظہار یکجہتی کے جرم میں بغاوت کے الزامات لگا کر گرفتار کرلیا گیاایسے حالات میں اور ایسے نظام میں لوگ کہاں جائیں اور کس سے انصاف مانگیں اور ایسے حالات میں اگر کچھ لوگ مایوس ہوکر کوئی انتہائی راستہ اختیار کرتے ہیں تو اسکی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔بدقسمتی سے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ماضی کی تمام حکومتیں لاپتہ افراد کے مسئلے کا حل نہیں نکال سکیں۔ اور اب بھی بات یہی ہے کہ ہمارے پاس ان لوگوں کے سوالوں کا کیا جواب یا جبری گمشدگیوں کا سلسلہ ختم کرنے کے لیے کیا کوئی لائحہ عمل ہے یا بدستور جو بھی اقتدار میں آئیگا اس معاملے پر ہاتھ اوپر کرلیگا۔ہم اگر ان سینکڑوں لوگوں کا زکر نا بھی کریں جو کہ چالیس پچاس سالوں سے گمشدہ ہیں اور آج تک انکے متعلق کوئی معلومات نہیں جن میں خود سردار اختر جان کے بھائی اسد مینگل بھی شامل ہیں، تب بھی صرف مشرف دور میں شروع ہونے والے آپریشن کے بعد سے موجودہ دور میں لاپتہ کیے گئے افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے اور ایسے ایسے خاندان ہیں جو دس دس بیس بیس سالوں سے اپنے پیاروں کی راہ دیکھ رہے ہیں اس دور میں بلوچوں کے خلاف انتقام اتنی شدت اختیار کرگیا کہ 2009 سے لاپتہ کیے گئے لوگوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا جن میں سے اکثر ناقابل شناخت ہوتی ہیں اور کوئٹہ میں ایسی ناقابل شناخت لاشوں کا پورا قبرستان وجود پا چکا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہاں اس گمشدہ فرد کے جو قانونی اور انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں اور اسے جن اذیتوں سے گزرنا پڑ رہا ہے وہ تو اپنی جگہ یہ عمل پورے خاندان کے لیے اجتماعی سزا ہے۔والدین عمریں گزار دیتے ہیں اپنے پیاروں کے انتظار میں لیکن اکثریت کو کوئی جواب نہیں ملتا۔ ایک نسل ا?ج جوان ہوچکی ہے جن کو یہ نہیں معلوم کے انکا والد زندہ ہے یا کسی اجتماعی قبر میں دفن ہے۔ہزاروں خواتین ہیں جنکو 5، 10، 20 سالوں سے یہ نہیں معلوم کہ انکے شوہر زندہ ہیں یا وہ بیوہ ہوچکی ہیں سالوں سے لواحقین سڑکوں پر، پریس کلبز کے سامنے، اقتدار کے ایوانوں کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں، کمیشن و عدالتوں اور تھانوں کے چکر کاٹ رہے ہیں مگر کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ایک نسل انہی سڑکوں پر احتجاج کرتے اور عدالتوں کے چکر لگاتی جوان ہوگئی مگر مسئلے کا حل تو دور آج بھی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے میرکبیر نے کہاکہ کوئٹہ اور گوادر جیسے شہروں میں ہونیورسٹیوں کے اندر سے طلباء کو لاپتہ کیا جارہا ہے تو آپ خود سوچیں کہ ڈیرہ بگٹی، کوہلو یا پھر آواران میں کیا حالات ہونگے آج بھی تحفظ کے ذمہ داروں کی جانب سے عدم تحفظ اور طلباء کی جبری گمشدگیوں کے خلاف بلوچستان یونیورسٹی بند ہے۔لوگ کس سے جواب مانگیں کس سے انصاف چاہیں کہ یہاں تو لاقانونیت اور بربریت کا یہ عالم ہے کہ انصاف کی سب سے بڑی عدالت بھی بے بس اور اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرسکا۔دو ہزار بارہ (2012) میں کوئٹہ سے تین لوگوں کی جبری گمشدگی کے کیس میں خود پولیس نے گواہی دی کہ مذکورہ افراد کو سیکورٹی اہلکاروں نے اغواء کیا، پھر آئی جی ایف سی کی موجودگی میں سپریم کورٹ میں اغواء کے اس واقع کی سی سی ٹی وی فوٹیج تک چلائی گئی مگر سپریم کورٹ بار بار احکامات دیتی رہ گئی اور مذکور افراد کی لاشیں پھنک دی گئیں۔یہاں تو ایسا لگتا ہے جیسے جان بوجھ کر لوگوں کو دیوار سے لگایا جاتا ہے تاکہ پرامن جدوجہد اور آزادی اظہار کے زرائع ختم کرکے لوگوں کو انتہاوں کی طرف دھکیلا جائے اور طاقت کے استعمال کا جواز ملے۔ ابھی چار ہفتوں سے گوادر کے لوگ بنیادی ضروریات کا مطالبہ کیے پرامن احتجاج اور دھرنا دیئے بیٹھے ہیں اور حکمرانوں کے پاس انکے مسائل کا حل تو نہیں البتہ بہانے بہانے سے لوگوں کو اشتعال دلانے کے لیے اقدامات لیے جارہے ہیں تاکہ طاقت کے زور پر احتجاج ختم کیا جائے۔ پانی، بجلی دینے اور ٹرالنگ روکنے کے بجائے دھرنے کا گھیراو کرنے پانچ ہزار پولیس اہلکار گوادر بھیج دیئے گئے۔ اور کل دھرنے میں شرکت کے لیے آنے والے بزرگ سیاستدان یوسف مستی خان جوکہ کینسر کے عارضے میں بھی مبتلا ہیں انکو دھرنے سے اظہار یکجہتی کے جرم میں بغاوت کے الزامات لگا کر گرفتا ر کرلیا گیاایسے حالات میں اور ایسے نظام میں لوگ کہاں جائیں اور کس سے انصاف مانگیں اور ایسے حالات میں اگر کچھ لوگ مایوس ہوکر کوئی انتہائی راستہ اختیار کرتے ہیں تو اسکی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔بدقسمتی سے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ماضی کی تمام حکومتیں لاپتہ افراد کے مسئلے کا حل نہیں نکال سکیں۔ اور اب بھی بات یہی ہے کہ ہمارے پاس ان لوگوں کے سوالوں کا کیا جواب یا جبری گمشدگیوں کا سلسلہ ختم کرنے کے لیے کیا کوئی لائحہ عمل ہے یا بدستور جو بھی اقتدار میں آئیگا اس معاملے پر ہاتھ اوپر کرلیگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں