ویڈیو اسکینڈل انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے، قادر علی نائل
کوئٹہ:ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ورکن بلوچستان اسمبلی قادر علی نائل نے لڑکیوں کے ویڈیوز بناکر انہیں بلیک میل کرنے جیسے گھناؤنے فعل کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ فعل نہ صرف انسانیت کے منہ پرطمانچہ بلکہ قبائلی معاشرے کیلئے بہت بڑا دھچکا ہے،اس قبح عمل کے خلاف بلوچستان کے لوگوں کو اپنے بہو،بیٹی،بہنوں کی عزت اور آبرو کیلئے آگے آنا چاہیے،ہ ہمارے سماج کی بگڑی ہوئی شکل ہے جس کی خوبصورتی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،یونیورسٹی اسکینڈل میں ملوث عناصر کو سزا دی گئی ہوتی تو آج یہ قبح عمل سامنے نہ آتا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے بیان میں کیا۔ قادر علی نائل نے کہاکہ یہ عمل کسی ایک شخص کے ساتھ نہیں بلکہ انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے،بلوچستان خوبصورت روایات کی امین صوبہ ہے یہاں کے قبائل صدیوں سے ان روایات کے پاسدار وامین ہے یہ فعل نہ صرف انسانیت سوز بلکہ قبائلی معاشرے کو ایک بہت بڑا دھچکا ہے انہوں نے کہاکہ اس واقعہ سے متعلق کمیٹی تشکیل دی گئی ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ یہ کمیٹی ایک قوم تک محدود نہ ہوں کیونکہ یہ معاملہ کسی ایک قوم کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا ہے ہر انسان دوست شخص کوآگے آنا چاہیے بلوچستان کے لوگوں کو اپنے بہو،بیٹی،بہنوں کی عزت اور آبرو کیلئے آگے آنا چاہیے،ایچ ڈی پی حکومت کا حصہ ہے ہم نے اصلاحی کمیٹی کے ساتھ تعاون کی ہے ان کی وزیراعلی بلوچستان سے ملاقات کرائی ہے،میں آئی جی پولیس کے ساتھ رابطے میں ہوں،ہمیں جو یقین دہانیاں کرائی گئی ہے وہ قابل اطمینان ہے روزانہ کی بنیاد پر ڈی آئی جی پولیس کی سربراہی میں تفتیش کا عمل جاری ہے مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچایاجائے گا، ڈی آئی جی نے بتایاہے کہ محکمہ خارجہ کے ذریعے افغانستان کے حکام کے ساتھ رابطہ کیاجائے گاافغانستان ہمسایہ ملک ہے یہاں آناجانا مشکل نہیں لیکن معلوم نہیں بلکہ بتایاجارہاہے کہ وہ وہاں پر ہے جس کیلئے ہمیں انتظار کرناپڑے گا،انہوں نے کہاکہ حقائق کھل کر ہمارے سامنے آئیں گے اور اس میں ملوث نیٹ کا سراغ لگایاجائے گا یہ ہمارے سماج کی بگڑی ہوئی شکل ہے جس کی خوبصورتی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،پولیس کی جانب سے بتایاگیاہے کہ اب تک دو ملزمان گرفتار ہیں فرانزک لیب سے رپورٹ آنے تک ہی مزید پیشرفت ممکن ہوگی،انہوں نے کہاکہ ہمارے آباؤاجداد نے جو روایات اوراقدار ہمارے حوالے کئے ہیں وہ قوم،لوگوں یا اقوام کے حوالے سے ہوں وہ کہیں نہ کہیں جا کر خراب ہورہاہے اس کی بہت ساری مثالیں ہیں بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل سب کے سامنے ہیں،اسمبلی فلور پر ہم نے بہت سے چیزیں رکھی کہ ان کی تحقیقات ہونی چاہئیں لیکن اس ممکن نہ ہوسکا کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی بہت سی متاثرین پیش نہ ہوسکی اور یونیورسٹی اسکینڈل دب کر رہ گیااس کے بعد ایک اور قبح عمل سامنے آیاہے اس کیلئے معاشرے کے لوگوں کو بیدار ہونے کی ضرورت ہے اور ایک موثرآواز بلند کرنا چاہیے عزت وآبرو جیسے مسائل بہترانداز میں حل ہوسکیں۔


