بلوچستان میں پالیسی ساز اداروں کے اجلاس کو منعقد کرانا ہمارا بنیادی مطالبہ رہا ہے، ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ

کوئٹہ: افپواسا بلوچستان چیپٹر و اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، فپواسا بلوچستان چیپٹر کے جنرل سیکرٹری و اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے نائب صدر فرید خان اچکزئی، نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جامعہ بلوچستان میں سینڈیکیٹ اور دیگر پالیسی ساز اداروں کے اجلاس کو منعقد کرانا ہمارا بنیادی مطالبہ رہا ہے لیکن غیر قانونی طور پر مسلط وائس چانسلر نے مسلسل پٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی اجلاس نہیں بلایا باوجود عدالت عالیہ کے واضح احکامات کے، اب جب جامعہ کے دو طلبا کی اغوا کے بعد طلبا تنظیموں،اساتذہ کرام، آفیسرز اور ملازمین کے احتجاج اور طلبا دھرنے،جس کی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن نے اپنے کابینہ اجلاس میں مکمل حمایت کی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں بھی حمایت کی، طلبا سے یک جہتی کے لئے کئی بار انکے احتجاجی دھرنا کیمپ گئے اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی پلیٹ فارم سے پریس کانفرنس اور جامعہ بلوچستان میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا،نتیجے مین طلبا تنظیموں سے صوبائی حکومت کی پارلیمانی کمیٹی کے طویل مذاکرات کے بعد پارلیمانی کمیٹی کی سفارش اور چانسلر کی ہدایت کے مطابق جامعہ بلوچستان کو دونوں طلبا کی بازیابی تک جامعہ بلوچستان کو تعلیمی اور انتظامی لحاظ سے مکمل طور پر بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، اور 27دسمبر سے سردیوں کی چھٹیاں بھی دی لیکن اب اچانک سینڈیکیٹ کا ان سرکلر اجلاس بلایا گیا وھ بھی مخصوص ایجنڈا پوائنٹس پر بیان میں کہا کہ اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن اور سینڈیکیٹ کے منتخب ممبران سمجھتی ہے کہ سب سے بنیادی مسئلہ دو طلبا کی بخیر وخیریت بازیابی کا ہے جسکے لئے جامعہ بلوچستان کو مکمل طور پر بند کیا گیا ہے انکی بازیابی کے بعد جب جامعہ۔مکمل طور پر کھل جائے تو سینڈیکیٹ سمیت تمام پالیسی ساز اداروں کے اجلاس فزیکل طور پر منعقد ہو تاکہ اس میں پچھلے سینڈیکیٹ اور فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کے اجلاس میں یوٹیلیٹی گروپ انشورنس، میڈیکل، اردلی الاونس، 44 فیصد ہاوس ریکوزیشن، 25 فیصد ڈسپیریٹی الانس،اوور ٹائم، اساتذہ کرام کے ایم فل اور پی ایچ ڈی کلااسسز اور امتحانات بل کی بڑوھتی و دیگر تمام طے شدہ پوائنٹس پر کھل کر سامنے سامنے بحث اور غیر قانونی طور پر مسلط وائس چانسلر سے پوچھ گچھ اور حساب وکتاب ہو،انکے چور دروازے سے بلائے گئے ان سرکلر اجلاس مین شرکت دراصل دو اغواشدہ طلبا کے ساتھ غداری اور انکے خاندان والوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہوگی اور جامعہ بلوچستان کے اساتذہ، آفیسرز اور ملازمین کے منظور شدہ پوائنٹس سے چشم پوشی ھوگی،بیان میں گورنر، وزیر اعلی بلوچستان اور صوبائی حکومت کی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ سردار عبدالرحمن کھیتران ودیگر ممبران سے اپیل کی کہ وہ جامعہ بلوچستان کی انتظامیہ کو اس غیر قانونی ان سرکلر سینڈیکیٹ اجلاس کو اغواشدہ طلبا کی بازیابی تک موخر کرائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں