بلوچستان ایڈورٹائزمنٹ پالیسی مبہم اورنا مکمل ہے، ڈیجیٹل پبلشرز فورم نے پالیسی کو مسترد کردیا
کوئٹہ: بلوچستان ڈیجیٹل پبلشرز فورم نے حکومتِ بلوچستان کی جانب سے یکم جولائی سے بغیر مشاورت کے نافذ کی گئی "بلوچستان ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2026” کو مسترد کرتے ہوئے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ڈیجیٹل پبلشرز نے خبردار کیا ہے کہ یہ مبہم اور نامکمل پالیسی نہ صرف میڈیا صنعت کو تباہ کر دے گی بلکہ ڈیجیٹل اشتہارات کی مد میں کرپشن اور کمیشن کے نئے راستے بھی کھولے گی۔ جس کا واضح ثبوت یکم جولائی کے بعد گذشتہ دس روز میں ڈمی برائے نام ویب سائسٹس کو اشتہارات کا اجرا ہے جبکہ صوبے کی قدیم پرنٹ میڈیا کے وجود کیلئے بھی خطرہ ہے ‘ اگر پالیسی پر عمل کیا گیا تو صوبے سے شائع ہونیوالے معروف اور موقر اخبارات بند ہونے پر مجبور ہونگے جس سے میڈیا انڈسٹری میں بے روزگاری اور بے چینی کی نئی لہر دوڑے گی بلوچستان کی نئی پالیسی کو بناتے وقت دوسرے صوبوں اور وفاق کی پالیسیوں کا بھی مد نظر نہیں رکھا گیا ہے ‘ پرنٹ میڈیا کے اشتہارات پر کٹ لگانا دراصل اس مائینڈ سیٹ کا شاخصانہ ہے جو روز اول سے صوبے کے حقیقی اخبارات کو بند کرنے کے درپے ہیں ‘ کسی بھی صوبے میں ٹینڈرز اور دیگر اشتہارات کو 2 اخبارات تک محدود نہیں کیا گیا پنجاب جیسا صوبہ جہاں ہزاروں اخبارات اور بڑی تعداد میں ٹینڈرز ایشو ہوتے ہیں وہاں بھی نئی پالیسی میں ٹینڈرز اور دیگر اشتہارات کم از کم 6 سے 8 اخبارات کو جاری ہوتے ہیں ‘گزشتہ روز کوئٹہ میں بلوچستان ڈیجیٹل پبلشرز فورم کے آن لائین مشاورتی اجلاس صدر سید علی شاہ ” کوئٹہ وائس کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں جیند ساجدی ‘’ ڈیلی انتخاب ‘ صادق بلوچ ” ڈیلی آزادی ‘ عظمت اللہ اچکزئی ڈیلی قدرت ’ سہیل بلوچ ڈیلی الجزیرہ نے شرکت کی اجلاس میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ نئی اشتہاری پالیسی کی تشکیل میں پرنٹ یا ڈیجیٹل میڈیا کے کسی اسٹیک ہولڈر کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور عجلت میں بنائی گئی اس پالیسی پر عملدرآمد انتہائی مشکل ہے۔ فورم کے مطابق، اخبارات کو سینٹرل میڈیا لسٹ میں شامل ہونے کے لیے اشاعت کے بعد مسلسل پانچ سال کا طویل عرصہ درکار ہوتا ہے، جبکہ نئی پالیسی میں ڈیجیٹل میڈیا کے لیے ایسی کوئی واضح شق موجود نہیں ہے۔ اس خامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گزشتہ دس دنوں میں ڈیجیٹل میڈیا کے نام پر ایسی غیر معروف ویب سائٹس کو اشتہارات جاری کیے گئے ہیں جو محض چند ہفتے قبل اور پالیسی کے اعلان کے بعد وجود میں آئی ہیں یا جن کی ویب ٹریفک بالکل صفر ہے۔ یہ عمل نئی ایڈورٹائزمنٹ پالیسی کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ ڈیجیٹل اشتہارات کو اقربا پروری کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔ فورم نے اس بات پر انتہائی زور دیا ہے کہ ویب سائٹس یا ڈیجیٹل فورمز کو سرکاری اشتہارات کے اجرا کے لیے ایک باقاعدہ، کڑا اور شفاف طریقہ کار وضع کیا جانا چاہیے تاکہ میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے اور بغیر ٹریفک والی ڈمی ویب سائٹس کی حوصلہ شکنی ہو۔ فورم نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ حکومتِ بلوچستان اس متنازعہ پالیسی کو فوری طور پر واپس لے اور تمام میڈیا اسٹیک ہولڈرز کی باہمی مشاورت سے ایک نئی اور جامع میڈیا پالیسی تشکیل دے جس سے نہ صرف صوبے کے اخبارات کے وجود کو برقرار رکھنے میں مدد ملے بلکہ ڈیجیٹل پبلشرز کو درپیش مسائل خوش اسلوبی سے حل ہو سکیں۔


