کسی فرد کے انفرادی جرم پر چیف آف جھالاوان کو تنقید کا نشانہ بنانا بلوچ قبائلی روایات سے مطابقت نہیں رکھتا، آل زہری متحدہ قبائل
خضدار(بیورورپورٹ) خضدار،آل زہری متحدہ قبائل سندھ وبلوچستان کے ترجمان نے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ چیف آف جھالاوان نواب ثنائ اللہ خان زہری بلوچستان کی قبائلی، سماجی اور تاریخی روایات کے امین اور بلوچ قومی تشخص کی ایک باوقار علامت ہیں۔ ان کی شخصیت صرف زہری قبیلے کی قیادت تک محدود نہیں بلکہ پورے جھالاوان اور بلوچ معاشرے میں احترام، انصاف، رواداری اور قبائلی اقدار کی نمائندہ سمجھی جاتی ہےبیان میں کہا گیا کہ بلوچ معاشرے میں چیف آف جھالاوان کا منصب صدیوں پر محیط تاریخی روایات کا تسلسل ہے، جس کی بنیاد عزت، مہمان نوازی، بھائی چارے، انصاف اور اجتماعی ذمہ داری پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نواب ثناءاللہ خان زہری کو مختلف قبائل، سماجی حلقوں اور عوام میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ترجمان نے کہا کہ کسی بھی فرد کے انفرادی فعل یا مبینہ جرم کی ذمہ داری صرف اسی فرد پر عائد ہوتی ہے۔ کسی ایک شخص کے عمل کو جواز بنا کر چیف آف جھالاوان، ان کے خاندان یا جھالاوان کے تاریخی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانا انصاف، قانون اور اخلاقی اصولوں کے منافی ہے، اور بلوچ قبائلی روایات سے بھی مطابقت نہیں رکھتا بیان میں مزید کہا گیا کہ جھالاوان ہاوس بلوچ تاریخ ثقافت تہذیب اور تختِ جھالاوان کی ایک معتبر علامت ہے جو بلوچ قوم کے اجتماعی وقار کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایسے تاریخی اور قبائلی اداروں کو سیاسی اختلافات یا ذاتی تنازعات کی نذر کرنا دانشمندانہ طرزِ عمل نہیں بلکہ ہماری مشترکہ روایات اور قومی ورثے کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہےترجمان نے کہا کہ نواب ثنائ اللہ خان زہری کی عوامی خدمت، قبائلی ذمہ داری، سماجی کردار اور بلوچ روایات کے تحفظ کے لیے خدمات سب کے سامنے ہیں۔ اختلافِ رائے ہر شہری کا آئینی اور جمہوری حق ہے، تاہم ہر قسم کی تنقید شواہد، قانون، اخلاقیات اور باہمی احترام کے دائرے میں رہ کر ہونی چاہیےبیان کے اختتام پر آل زہری متحدہ قبائل سندھ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تنظیم بلوچ روایات، قبائلی وقار، امن، اتحاد، بھائی چارے اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، اور ہر اس مثبت اقدام کی حمایت کرے گی جو بلوچستان میں انصاف، استحکام، قومی ہم آہنگی اور اجتماعی مفاد کو مضبوط بنانے کا باعث بنے۔ ساتھ ہی تمام سیاسی، سماجی اور قبائلی حلقوں سے اپیل کی گئی کہ اختلافات کے باوجود ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کریں اور ایسے بیانات یا اقدامات سے اجتناب کریں جو معاشرتی ہم آہنگی اور قبائلی روایات کو متاثر کریں۔


