ہرنائی کو لورالائی ڈویژن میں شامل کرنا نامنظور، دوبارہ سبی میں شامل کی جائے، نور محمد دمڑ
کوئٹہ(این این آئی ) صوبائی وزیر خوراک حاجی نور محمد خان دمڑ نے ضلع ہرنائی کو سبی ڈویژن سے نکال کر لورالائی ڈویژن میں شامل کرنے کے حکومتی نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ضلع ہرنائی کے عوام کی مرضی و منشا کے سراسر خلاف ہے۔ میں عوامی رائے کے خلاف کسی فیصلے کی حمایت نہیں کروں گا۔اپنے ردِ عمل میں صوبائی وزیر نے کہا کہ ضلع ہرنائی کو سبی ڈویژن سے الگ کر کے لورالائی ڈویژن میں شامل کرنے کا نوٹیفکیشن نہ صرف عوامی امنگوں کے منافی ہے بلکہ صوبائی کابینہ کے فیصلوں سے بھی متصادم ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے صوبائی کابینہ کے اجلاسوں میں دو مرتبہ واضح طور پر موقف اختیار کیا تھا کہ ضلع ہرنائی کو سبی ڈویژن کا حصہ رہنے دیا جائے اور ضلع زیارت کو لورالائی ڈویژن میں شامل کیا جائے۔ کابینہ نے بھی یہی فیصلہ کیا تھا، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جاری کردہ نوٹیفکیشن کابینہ کے فیصلے کے برعکس ہے۔حاجی نور محمد خان دمڑ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ میں ضلع ہرنائی کے عوام کی مرضی و منشا کے خلاف کسی فیصلے کی توثیق نہیں کروں گا۔ ڈویڑن کے حوالے سے ہرنائی کے عوام جو فیصلہ کریں گے میں ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہوں۔ چاہے احتجاج کرنا پڑے یا کسی بھی فورم پر آواز اٹھانی پڑے، میں ہرنائی کے عوام کے ساتھ ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہرنائی کو لورالائی ڈویژن میں شامل کرنا عوام کی خواہش کے خلاف ہے، اس لیے میں اس فیصلے کو یکسر مسترد کرتا ہوں اور ہرنائی کو دوبارہ سبی ڈویژن میں شامل کروانے کے لیے ہر فورم پر بھرپور جدوجہد کروں گا۔ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے بھی مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ موجودہ نوٹیفکیشن پر نظرثانی کرکے ضلع ہرنائی سبی ڈویژن میں ہی رہنے دیا جائے اور جاری کردہ نوٹیفکیشن کو منسوخ کیا جائے


