اسٹیٹ بینک کا آئندہ 2 ماہ کے لیے شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان آئندہ 2 ماہ کے لیے شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے، گورنراسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا کہ شرح سود 9 اعشاریہ 75فیصد پر برقرار رکھا ہے، مہنگائی میں کمی لانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گورنراسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت اسٹیٹ بینک نے آئندہ 2 ماہ کے لیے شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔گورنراسٹیٹ بینک رضا باقر کا کہنا ہے کہ شرح سود 9اعشاریہ75فیصد پر برقرار رکھا ہے، مہنگائی میں کمی لانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں، 2 ماہ کے دوران مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے، کرنٹ اکاونٹ خسارے میں کمی آرہی ہے۔ گورنراسٹیٹ بینک نے کہا کہ مہنگائی میں اضافہ کی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت میں اضافہ ہے، مہنگائی میں اضافہ کی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ ہے، رواں مالی سال کے دوران شرح سود میں 2 اعشاریہ 75فیصد اضافہ ہوا، جی ڈی پی گروتھ مستحکم رہے گی۔دوسری جانب انٹرنیشنل پریس ایجنسی کے مطابق ملک کا کرنٹ اکانٹ خسارہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں 9 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا، جو کہ مجموعی ملکی پیداوار کا 5.7 فیصد بنتا ہے رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کرنٹ اکانٹ خسارہ، جو اشیا، خدمات اور سرمایہ کاری کے ملک میں آنے جانے کی پیمائش کرتا ہے، موجودہ مالی سال کے لیے حکومت کے جی ڈی پی کے 4 فیصد کے نظرثانی شدہ ہدف سے کافی زیادہ ہے۔اسٹیٹ بینک نے کہا کہ 9 ارب 9 کروڑ ڈالر کا کرنٹ اکانٹ خسارہ جاری معاشی بحالی کے درمیان تجارتی جھٹکے کی وجہ سے ہوا کرنٹ اکانٹ خسارہ گزشتہ برس نومبر میں ایک ارب 89 کروڑ ڈالر جبکہ دسمبر میں ایک ارب 93 کروڑ ڈالر تھا. جولائی تا دسمبر موجودہ خسارہ ایک سال پہلے ایک ارب 24 کروڑ 70 لاکھ ڈالر(جی ڈی پی کا 0.9 فیصد)کے سرپلس کے بالکل برعکس ہے تاہم مالی سال 21-2020 کے اختتام تک وہ چھ ماہ کا سرپلس بھی ایک ارب 91 کروڑ 60 لاکھ ڈالر یا جی ڈی پی کے 0.6 فیصد کے برابر خسارہ بن گیا تھا. جولائی تا دسمبر کرنٹ اکانٹ خسارہ بڑی حد تک بڑھتے ہوئے درآمدی بل کی وجہ سے بڑھا جو اسی مدت کے دوران 53 فیصد بڑھ کر 41 ارب 66 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا. یہ اوسطا 6 ارب 90 کروڑ ڈالر فی ماہ تجارتی خسارہ ہے جو ایک سال پہلے کی مدت میں 4 ارب 49 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھا اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) میں کرنٹ اکانٹ خسارہ اس سے پہلے والی سہ ماہی کے مقابلے بہت زیادہ تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت زرمبادلہ کے ذخائر کو کم از کم تین ماہ کے درآمدی بل کے برابر رکھنا چاہتی ہے. رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکانٹ خسارہ 3 ارب 56 کروڑ ڈالر تھا جو دوسری سہ ماہی میں 5 ارب 57 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا حکومت اور اسٹیٹ بینک نے درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا تجارت اور صنعت کے ساتھ ساتھ حکومت کا یہ بھی ماننا ہے کہ اعلی درآمدی بل ملک میں اقتصادی سرگرمیاں خاص طور پر برآمدات کے شعبے کو ظاہر کرتا ہے. تاہم چھ ماہ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 41 ارب 66 کروڑ ڈالر کی درآمدات کے مقابلے میں اشیا اور خدمات کی برآمدات 18 ارب 65 کروڑ ڈالر ہیں جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ تقریبا دگنا ہو کر 23 ارب ڈالر ہو گیا جو ایک سال پہلے کی اسی مدت میں 12 ارب 33 کروڑ ڈالر تھا. گزشتہ دو مالی سال (یعنی 20-2019 اور21-2020) کے دوران کرنٹ اکانٹ خسارہ بالترتیب جی ڈی پی کے 17 فیصد اور 0.6 فیصد کے برابر رہا بیرونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے زیادہ قرضے لینے کے ساتھ ایسا لگتا ہے کہ ملک قرضوں کے جال کی جانب بڑھ رہا ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی درآمدات کے برابر برآمدات بڑھانے میں ناکام رہا. حکومت بڑھتے ہوئے درآمدی بل کو مشینری کی اعلی درآمدات سے جوڑتی ہے، جو معیشت میں ترقی کی علامت ہے تاہم تجزیہ کاروں اور محققین کا خیال ہے کہ کرنٹ اکانٹ خسارہ متوقع اقتصادی ترقی سے کہیں زیادہ بڑے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔


