گورنر بلوچستان کا زیتون کے پھل و تیل کو پراسس کرنے کے جدید مرکز کا افتتاح

کوئٹہ: گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا نے بلوچستان ایگریکلچرل رسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر میں زیتون کے پھل اور تیل کو پراسس کرنے کے جدید مزکز کا افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ دو ارب روپے کی مالیت کے منصوبے سے صوبہ بلوچستان کے زمینداروں کو مشینری اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اسکے بعد چار ارب روپے کی لاگت کا دوسرا منصوبہ بھی آرہا ہے جس میں کاشت کاروں کو تین ماہ کی تربیت بھی دی جائے گی، دونوں منصوبوں کا آغاز بلوچستان سے کیا جارہا ہے۔ گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا نے افتتاحی تقریب کے شرکا سے خطاب کرتے کہا کہ زراعت اور ریسرچ کے تمام ثمرات صوبے کے غریب کسانوں تک پہنچانا آولین شرط ہے۔ صوبہ بلوچستان کے متعدد اضلاع زیتون کی کاشت کیلئے موزوں ہیں اور یہ بات باعث مسرت ہے کہ زیتون کی ستر فیصد زاہد پیدوار یہاں سے ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کے عملی اقدامات کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ پہلی مرتبہ بلوچستان بھر سے زمینداروں کو تین ماہ کی تربیت کیلئے اٹلی بھیجے جائیں گے۔ سردست بلوچستان میں تیس فیصد زیتون تیل نکالا جارہا ہے اور زیتون تیل اس وقت تین ہزار فی لیٹر فروخت ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ زیتون کی اتنی بڑی آمدن نہ صرف ملکی معیشت کیلئے بلکہ کے معاشی استحکام کیلئے بھی بڑا قدم ہے، جو بھی منصوبہ مفاد خلق کیلئے ہو اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے میری خدمات ہر وقت حاضر ہیں، بلوچستان پبلک سیکٹر کی پانچ مختلف یونیورسٹیوں کیلئے پانچ سو ایکٹر پر زیتون کے باغات لگانا ایک خوش آئند اقدام ہے۔ گورنر نے کہاکہ موجودہ حکومت کے چھ ارب روپے کے منصوبے میں سے ہچاس فیصد بلوچستان کیلئے ہے جو ایک بہترین آغاز ہے، صوبہ کے زمینداروں کی رہنمائی، معاونت اور انٹرنیشنل مارکیٹ تک رسائی فراہم کرنا تمام متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری اجتماعی بدبختی ہے کہ ماضی میں مناسب منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے اپنے دستیاب وسائل سے خاطر خواہ استفادہ نہ کر سکے۔ بلوچستان زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے روشن امکانات موجود ہیں۔ زیتون تیل کو پراسس کرنے کے پلانٹ کے افتتاح کے موقع پر چیرمین پاکستان ایگریکلچرل کونسل ڈاکٹر غلام علی، عالمی ادارہ ایف اے او کے نمائندے ولید مہدی، محترمہ صبا، پاک آئل سیڈز ڈیپارٹمنٹ کے ایم ڈی ڈاکٹر خیر محمد کاکڑ، ڈاکٹر ندیم صادق اور ڈائریکٹر ریسرچ جاوید ترین بھی موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں