سانحہ اعوان قاتلوں کی گرفتاری تک دھرنا جاری رہے گا، بیبرگ رند

بولان:سانحہ اعوان بالاناڑی قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف متاثرین کی جانب سے بولان وئیر کے مقام پر سندھ بلوچستان قومی شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے ہر قسم کی ٹریفک کیلئے روڈ مکمل طور پر بند کردیا گیا،سانحہ میں تین افراد کو بے دردی کے ساتھ قتل اور دو کوشدید زخمی کیاگیا جو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں انتظامیہ نامذد قاتلوں کو گرفتار نہیں کررہی انصاف کے تقاضے پورے ہونے تک احتجاج جاری رہے گا،قاتلوں کو وزیر اعلیٰ بلوچستان کی آشیر باد حاصل ہے حکومت انکی پشت پنائی چھوڑ دیں مظلوموں کی آہ سے ڈریں،احتجاجی دھرنے کے موقع پر سردارزادہ میر بیبرگ خان رند، سردارزادہ میر میران خان رند،غلام محمد اعوان،ملک عارف رند کی صحافیوں سے گفتگو،تفصیلات کے مطابق ضلع کچھی کی سب تحصیل بالاناڑی کے علاقے گوٹھ اعوان میں تین ماہ سے زائد کا عرصہ قبل قتل کئے گئے اعوان برادی کی لواحقین کی جانب سے سندھ بلوچستان قومی شاہراہ کو ڈھاڈر کے قریب بولان وئیر کے مقام پر قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف احتجاج ٹائر جلاکر اور رکاوٹیں کھڑی کرکے روڈ کو بند کردیا گیا، اس دوران قومی شاہراہ کے دونوں اطراف میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، متاثرین سانحہ اعوان اور اہلیان کچھی کی جانب سے قومی شاہراہ کو بلاک کرنے کے بعد صوبائی حکومت،وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف نعرہ بازی کی گئی، اس موقع پر سردارزادہ میر بیبرگ خان رند،سردارزادہ میر میران خان رند،غلام محمد اعوان،ملک عارف رند نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کچھی کی نااہلی کی وجہ سے سانحہ اعوان کے قاتل آج تک دندناتے پھر رہے ہیں، صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ بلوچستان قاتلوں کی مکمل پشت پنائی کررہے ہیں تین ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا مگر ایف آئی آر میں نامزد قاتلوں میں سے ضلعی انتظامیہ کچھی نے ایک بھی قاتل کو گرفتار نہیں کیا جوکہ انکی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، سانحے میں اعوان برادری کے نہتے اور مظلوم تین افراد کوبے دردی کے ساتھ فائرنگ کرکے قتل اور دو کو شدید زخمی کردیا گیا،مقتولین کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اپنا حق اور انصاف مانگ رہے تھے مگر انکو حقوق کی پاداش میں قتل کیا گیا اور آج دن تک قاتل وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ساتھ بیٹھتے خوش گپیوں میں مصروف ہیں جس سے صاف ظاہر ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت قاتلوں کی مکمل سرپرستی کررہی ہے اور وقوعہ کی ایف آئی آر درج کرنے والے انتظامی آفیسر کو فوری طور پر تبدیل کرکے قاتلوں کو گرفتار نہ کرنے کیلئے لواحقین پر مختلف حربوں سے دباؤڈال رہی ہے، انہوں نے کہاکہ متاثرین قاتلوں کی عدم گرفتاری تک کسی بھی صورت چین سے نہیں بیٹھیں گے،واقعہ کو کئی ماہ گزر گئے مگر قاتلوں کا تاحال سراغ نہیں لگایا گیا، ہماری معلومات کے مطابق قاتل سرے عام کوئٹہ،سبی،ڈھاڈر گردنواح میں آزادانہ طور پر نقل حرکت کررہے ہیں مگر انتظامیہ ان پر ہاتھ نہیں ڈال رہی، انہوں نے موقف اختیار کرتے ہوئے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ جانبداری کا مظاہرہ کررہی ہے اور حکومتی سرپرستی کی وجہ سے قاتلوں کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ ہمارا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ جب تک انتظامیہ قاتلوں کو گرفتار نہیں کرتی دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں