حب، تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے کیخلاف پیرا میڈکس کی احتجاجی ریلی
حب(نمائندہ انتخاب) وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھر کے تمام سرکاری ملازمین کی 15فیصد تنخواہوں میںاضافہ کرنے کے اعلان پر حکومت بلوچستان کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے اور دیگر تسلیم شدہ الاﺅنس اور چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد ہونے کے خلاف حب کے سرکاری ملازمین سراپا احتجاج دفاتر کی تالہ بندی کردی پاکستان پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن اور نیشنل پروگرام ایمپلائز یونین کے عہدیداران و اراکین ،لیڈی ورکرز سڑکوں پر نکل آئے جام غلام قادر ٹیچنگ اسپتال حب کے سامنے مظاہرہ اور احتجاجی ریلی نکالی گئی مظاہرے اور احتجاجی ریلی میں ریلی کے شرکاءنے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں فوری طور پر 25فیصداضافہ کرنے سمیت دیگر الاﺅنس کی منظوری کے مطالبات تحریر تھے مظاہرین نے جینا ہوگا مرنا ہوگا دھرنا ہو گا دھرنا ہوگا کے نعرے لگائے اور حکومت بلوچستان سے فوری سرکاری ملازمین کی تنخواﺅں میں اضافہ کرنے اور دیگر الاﺅنس اور چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری کا مطالبہ کیا اس موقع پر چیئرمین پاکستان پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن لسبیلہ سید گلاب شاہ بخاری ،سینئر رہنماءمحمدصالح برفت ،ڈاکٹر نسیم ،اور میمونہ بی بی نے مظاہرین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وفاقی حکومت نے ایک ماہ قبل ہی ملک بھر کے تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد پنجاب سمیت دیگر صوبوں کے تمام ملازمین کو وفاقی حکومت کی اعلان کے بعد 15فیصد تنخواہوں اضافہ کا نوٹیفکیشن کردیا لیکن حکومت بلوچستان کی جانب سے تاحال نوٹیفکیشن جاری نہیں کیاجارہا انھوں نے کہاکہ اس سے قبل بھی بلوچستان کے سرکاری ملازمین تنخواہوں میں 10فیصد اضافے کا اعلان ہو اتھا اس پر بھی عملدرآمدر نہیں کیا جارہا بلوچستان حکومت کو ملازمین کے تنخواہوں میں 25فیصد اضافہ کرنا ہے اس حوالے سے وہ ٹال مٹول کام لے رہا ہے مقررین نے مزید کہا کہ بلوچستان میں مختلف سرکاری محکموں کے 32تنظیموں کی مشترکہ گرینڈ الائنس کی جانب سے گزشتہ ایک ماہ سے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضافہ میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا جارہا ہے حتیٰ کے مظاہرین پر حکومت بلوچستان نے طاقت کا استعمال کیا ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی ایک وہ اپنے مطالبات منوانے میں ڈٹے رہے بعدازاں حکومت کی جانب سے مظاہرین سے مذاکرات اور انکے مسائل حل کرنے کےلئے ایک دس رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی لیکن حکومت کی تشکیل کردہ کمیٹی ملازمین کے چار ٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد کرانے اور تنخواہوں میں 25فیصد اضافہ کرنے کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا جس کی وجہ سے ایک پھر سے بلوچستان بھر کے سرکاری ملازمین کوئٹہ کا رخ کرلیا ہے اگر ہمارے مطالبات چارٹر آف ڈیمانڈ کو تسلیم نہیں کیا گیا اور فوری طور پر 25فیصد تنخواہوں میں اضافہ کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو اتو بلوچستان بھر کے سرکاری ملازمین اپنے احتجاج کو مزید وسعت دینگے اور سی ایم سٹریٹ کے سامنے نہ رکنے والا احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گی ۔


