تعلیمی اداروں سے طلبا کو ماورائے آئین لاپتہ کیا جاتا ہے، ڈاکٹر مالک بلوچ

کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر و سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ سے گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی بلوچستان کے آڈیٹر جنرل کلیم اللہ ریکی و صوبائی سینئر نائب صدر منظور بلوچ نے نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ملاقات کی۔ جی ٹی اے آئینی کے رہنماؤں نے نیشنل پارٹی کے سربراہ سے ایسوسی ایشن کی طرف سے اساتذہ سے متعلق حکومت کو دیے گئے ڈیمانڈ نوٹس کی کاپی فراہم کی اور ڈیمانڈ نوٹس کی حمایت کی درخواست کی۔ اس موقع پر نیشنل پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ جونیئر اساتذہ کی اپ گریڈیشن ان کا آئینی و جائز حق ہے جس کی نیشنل پارٹی مکمل حمایت کرتی ہے۔ باقی صوبوں نے بھی جونیئر اساتذہ کی اپ گریڈیشن کی حق کو تسلیم کرتے ہوئے ان کو اپ گریڈ کیا ہے۔ بلوچستان میں بھی جونیئر اساتذہ کو ان کا حق ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک وسماج میں تعلیم کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ معیاری تعلیم کو ترجیح و مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ اساتذہ کو باوقار مقام حاصل ہے۔ تعلیمی نصاب میں علم وعمل اور مشاہدات کے عمل کو ترجیح دی جاتی ہے۔ قوم یا اقوام کی تہذیب و تمدن ثقافت اور تاریخ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ مقامی زبانوں میں تعلیم نصاب میں شامل ہوتا ہے لیکن پاکستان میں تعلیمی نصاب میں غیر ضروری چیزیں شامل ہیں۔ نصاب میں شامل کسی اور کی تاریخ کو حصہ بنایا گیا ہے۔ سماج میں اساتذہ کو جائز مقام ومرتبہ حاصل نہیں۔ تعلیمی اداروں سے طلبا کو ماورائے آئین لاپتہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک تعلیم کے عمل کو معیاری و جاندار نہیں کیا جائے گا اس وقت تک سماج کی تعمیر و ترقی ممکن نہیں جب تک سماج بہتر نہیں ہوگا تو ملک اسی طرع بحرانوں و انتشار کا شکار رہے گا۔ اس موقع پر نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما جسٹس ریٹائرڈ شکیل احمد بلوچ چیئرمین بی ایس او پجار زبیر بلوچ، صوبائی ترجمان علی احمد لانگو، یونس بلوچ، ملک ریاض بلوچ، بیبرگ بلوچ، بی ایس و کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری ابرار برکت سمیت دیگر موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں