اسلام آباد کی آمرانہ قوتوں نے خطے کو تباہ کن جنگ سے دوچار کردیا، این ڈی ایم
کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے چیئرمین رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا ہے کہ این ڈی ایم کا قیام معروضی حالات اور ہماری قومی سیاسی ضرورتوں کے مطابق ممکن ہوا کیونکہ ایک حقیقی جمہوری سیاسی پارٹی جس میں باشعور سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں کو پالیسی سازی اور فیصلہ سازی سمیت قیادت کے مواقع حاصل ہوں، سمجھوتوں، مصلحتوں، ذاتی و خاندانی مفادات اور روایتی سیاست سے پاک ہو، ہمارے قوم اور عوام کی اولین ضرورت تھی۔ کیونکہ ملک اور پشتون قومی تحریک کے سیاست کی تنزلی سے استعماری و آمرانہ قوتیں مضبوط ہوئی ہیں۔ اور ملک میں سیاست و جمہوریت اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتے جب تک سیاسی پارٹیوں میں حقیقی جمہوریت اور آبادی کی واضح اکثریت باصلاحیت نوجوانوں کو مواقع حاصل نہ ہوں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں پارٹی کے صوبائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس سے پارٹی کے مرکزی رہنما اور ممتاز دانشور افراسیاب خٹک نے ٹیلیفونک خطاب کیا۔پارٹی کے مرکزی ترجمان جمیلہ گیلانی اور جمال داوڑ نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔پارٹی رہنماں نے کہا کہ اسلام آباد کے استعماری و آمرانہ قوتوں اور عالمی سامراجی طاقتوں نے تاریخی افغانستان، محکوم پشتونخوا وطن اور خطے کو ایک نئے تباہ کن جنگ سے دوچار کرنے کی خطرناک پالیسی اپنائی ہے۔ تاریخی افغانستان جو تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن تھا اور اور افغان عوام کی منتخب حکومت قائم تھی، کو ختم کر کے موجودہ تاریکی اور وحشت کو بزور قوت مسلط کیا گیا۔ ڈیورنڈ کے آر پار ایک بار پھر مسلح گروہوں کو منظم کیا جا رہا ہے جسکی مثال شمالی وزیرستان اور دیگر علاقوں میں سیاسی کارکنوں، نوجوانوں اور سیاسی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہیں۔ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس بار اس تباہ کن جنگ اور آگ کے شعلوں سے کوئی محفوظ نہیں رہے گا اور پورے ملک کو لپیٹ میں لے گا۔مقررین نے کہا کہ پاکستان کی ریاست، سیاست اور معیشت، کاروبار سمیت داخلہ و خارجہ پالیسیوں پر فوجی جرنیلوں اور فوجی و سول بیوروکریسی کا قبضہ مسلط ہے۔ ملک کی موجودہ تباہ کن معاشی صورتحال دراصل ان استعماری اور استحصالی پالیسیوں کا منطقی نتیجہ ہے۔ موجودہ حکومت کی عوام دشمن معاشی پالیسیوں اور عوام پر جبری ٹیکسز، مہنگائی سے ملک کی معیشت مزید تباہ ہوگی۔ جب تک معاشی پالیسیوں کو قوموں اور عوام کے مفادات کے مطابق مرتب نہیں کیا جاتا، بے تحاشہ فوجی بجٹ، فوج کے کاروبار کو کھربوں روپے کے ٹیکس چھوٹ اور سول و فوجی بیوروکریسی کی مراعات اور ملک میں جاری کرپشن کو ختم نہیں کیا جاتا اور ملکی اقتدار حقیقی معنوں میں عوام کے حوالے نہیں کیا جاتا۔مقررین نے جنوبی پشتونخوا اور بلوچستان میں پشتون بلوچ عوام، سیاسی کارکنوں کے خلاف جاری ریاستی مظالم، معدنیات، جنگلات اور زمینوں پر ایف سی کے ذریعے قبضے کو غیر آئینی و غیر قانونی اور عوام دشمن عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہرنائی و زیارت کے حالیہ واقعات اور لاپتہ سیاسی بلوچ کارکنوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کرنے اور کوئلے و دیگر کاروبار پر بھتہ خوری کی صورتحال سے یہ واضح ہوا کہ ریاست کا وجود اور عملداری عملا ختم ہو چکی ہے۔مقررین نے پشتون بلوچ اقوام کی جمہوری سیاسی پارٹیوں پر زور دیا کہ وہ اس اذیت ناک صورتحال اور ریاستی ظلم و معدنیات و زمینوں اور پانی پر جاری قبضوں اور بھتہ خوری سے عوام کو نجات دلانے کے لیے مشترکہ جمہوری مزاحمتی تحریک شروع کریں نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ اپنے عوام کی نجات کے لیے ہر جمہوری تحریک میں موثر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔


