بلوچ گروہ کی کارروائیوں سے ہمارے لوگوں کی جان ومال محفوظ نہیں، سینکڑوں کی تعداد میں مزدور، وکیل اور ججز مارے جارہے ہیں، درجنوں گاڑیاں جلائی جاتی ہیں، ان حالات پر کوئٹہ میں پشتون اقوام کا جرگہ منعقد کریں گے، محمود اچکزئی

کوئٹہ (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر و پشتونخوا میپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خطے اور پاکستان کے حالات پر حیران ہیں، نام کی پارلیمنٹ ہے مگر عوام کو کچھ نہیں بتایا جارہا ہے کہ حکومت کیا کرنا چاہتی ہے، کشمیر کے حالات بھی اچھے نہیں، مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ملکر کشمیر جانے سے ہمارے راستے روکے گئے۔ تیس پینتیس افراد وہاں مارے گئے ہیں، وہ لوگ جو جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں ان کو کشمیر میں جاری ظلم کی مذمت کرنی چاہیے، بلوچ گروہ کی کارروائیوں سے ہمارے لوگوں کی جان ومال محفوظ نہیں، سینکڑوں کی تعداد میں مزدور مارے گئے ہیں۔ زیارت کے لوگوں کو کس نے مارا، انہیں مدد نہیں دی گئی، انہیں کمک نہیں پہنچائی گئی۔ ہنہ اوڑک میں لوگوں کو مارا گیا، ان واقعات کی تحقیقات نہیں ہوئیں۔ موجودہ حکومت لوگوں کے ساتھ مذاق کررہی ہے، وکیل اور ججز مارے جارہے ہیں، درجنوں گاڑیاں جلائی جاتی ہیں۔ ان حالات میں 29، 30 اور 31 اگست کو کوئٹہ میں پشتون اقوام کا جرگہ منعقد کریں گے۔ ہماری زمینیں دوسروں کے نام پر الاٹ کی جارہی ہیں۔ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ 5 تاریخ کو عمران خان کی قید کو 3 سال پورے ہورہے ہیں۔ اس دن پاکستان میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر اہتمام نئی تاریخ کا آغاز کریں گے، جلسے جلوس کریں گے، ملک میں کیا ہورہا ہے، ایجنسیاں کہاں سورہی ہیں۔ بڑی بے دردی سے پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کیا جارہا ہے۔ ہمارے علاقے میں کسی جخ، عورتوں اور بچوں کو نہیں مارا جائے گا۔ آئین بحال ہوجائے تو پاکستان چل سکتا ہے، بندوق کے زور پر کچھ نہیں ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں