لیویز کی بحالی سمیت دیگر مطالبات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو ہم دوبارہ احتجاجی شروع کریں گے ، زیارت دھرنا لواحقین

کوئٹہ (آن لائن) سانحہ زیارت شہداءکے لواحقین کے رہنماءنسیم خان پانیزئی نے 42زیارت شہداءکے پولیس اہلکاروں کی شہادت کے بعد مطالبات کے لئے ساتھ دینے پر تمام سیاسی جماعتوں ، قبائلی عمائدین، وکلاءسول سوسائٹی، طلبائ، خواتین ، تاجر تنظیموں سمیت تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مطالبے میں لیویز کی بحالی سمیت دیگر مطالبات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو ہم دوبارہ احتجاجی شروع کریں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبدالصمد خان پانیزئی، محمد قسیم خان، شیر محمد دمڑ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ 6 جولائی 2026ءکو ضلع زیارت کی پولیس فورس کے 42 اہلکاروں کو ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کچھ اور سران کے درمیان واقع سنسان اور غیر آباد علاقے میں موجود ایک خشک اور غیر استعمال شدہ مانگی ڈیم گریٹر واٹر سپلائی سکیم فیز III کے پمپنگ سٹیشن ٹینکی کی حفاظت پر تعینات تھے جنہیں دہشت گردوں نے ان پر چاروں اطراف سے حملہ کیا پولیس اہلکاروں نے محدود وسائل اور دستیاب اسلحہ ایمونیشن کے ساتھ بہادری سے ان کا مقابلہ کیا۔ ایمونیشن ختم ہونے پر انہوں نے متعدد بار ضلعی انتظامیہ، پولیس حکام، انسداد دہشت گردی فورس اور ایف سی جو محض چند کلو میٹر کے فاصلے کچھ بازار میں موجود تھی بلانے پر ان کی مدد نہ پہنچی اور وہ اپنی زندگیوں سے ہاتھ دوھو بیٹھے مگر ان کے سربراہان نے غیر ذمہ داری کامظاہرہ کرنے والوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ کے لواحقین نے انصاف کی فراہمی کیلئے 10 روز تک کوئلہ پھاٹک پر دھرنا دیا جس کو آج شہداءزیارت چوک کے نام سے منسوب کیا گیا ہے ۔ صوبے کے طول و ارض سے عوام نے ہمارا ساتھ دیا اور ہمارے مطالبات میں پیش رفت کرانے میں اپنا کردار ادا کیا ہم دھرنے میں آکر ہماری دلجوئی اور مطالبات کے حق میں ہمارا ساتھ دینے پر سیاسی ، مذہبی جماعتوں کے سربراہان ، اراکین قومی ، صوبائی اسمبلی ، سینیٹرز قبائلی عمائدین اور دیگر تنظیموں کے عہدیداروں اور حکام کے مشکور ہیں کہ انہوں نے ہمارا ساتھ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس ظلم کے خلاف بلوچستان کے تمام طبقات نے ہمارے احتجاج میں ہمارا ساتھ دیکر ثابت کیااور مطالبات تسلیم کئے گئے جن میں تحریری طور پر لیویز کی بحالی کا مطالبہ شامل تھا جس پر عملدرآمد ہونا باقی ہے اگر تمام مطالبات پر عمل نہ کیا گیا تو ہم دوبارہ احتجاج کریں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کی گئی الاٹمنٹ کو کینسل کرنے کا حکومت نے وعدہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں