محمود خان کے امن جرگہ کا خیر مقدم، مگر جب وہ خود اقتدار میں تھے تو صرف وزارتیں لیں، جنوبی پشتونخوا کی قرار داد منظور نہیں کرائی ،پھر ثناءاللہ کو وزیراعلیٰ بنایا،حاجی لشکری رئیسانی

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک)سابقہ صوبائی وزیر حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے میڈیا کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایک تو ہم اس بات کو دیکھیں کہ جرگے کی روایت کہاں سے پڑھی یا مشہور جرگے کون کون سے ہیں۔ سولہویں صدی میں میرویس ہوتک نے پشتون اور بلوچ قبائل کا ایک جرگہ بلایا۔ ریاستی ظلم، جب اس وقت قندھار کا حاکم گورگین ایک جابر حاکم تھا، اس کے خلاف اٹھے اور بلوچوں نے پشتونوں کے ساتھ دیا اور گورگین کے مقام پر گورگین کا قتل ہوا اور لوگوں کی جان اس جابر حاکم سے چھوٹی ایک روایت یہ ہے۔ دوسرا یہ کہ جب قلات پر قبضہ ہوا پندرہویں صدی میں تو میر بجار شہزادہ میر بجار کو ملک سے نکالا گیا اور پھر اس بنیاد پر کتب الدین رئیس، جو ہمارے اجداد میں سے تھا، اس نے ایک جرگہ بلایا، قلات کو واپس حاصل کیا۔ وہاں لوگوں نے فیصلے کیے، پھر فیصلے پر کھڑے رہے۔محمود خان نے جرگے کا اعلان کیا، ہم نے پھر اس کو اپنی قوم کی طرف سے خیرسگالی کا پیغام بھیجا کہ وہ مسائل کو پیچیدہ نہیں بناتا، اس کا حل تلاش کرتا ہے۔ تو ہم نے اپنا خیرسگالی کا پیغام اس لیے بھیجا کہ دو قومیں جو اس سرزمین پر بستے ہیں، بلوچ اور پشتون، ان کے جو مسائل ایک جیسے ہیں، بالخصوص خان صاحب نے یہ بات کہا۔ ہم نے خیرسگالی کی کوشش یہ کی کہ ہماری طرف سے کوئی ایسی بات نہ ہو، نہ کسی اور کی طرف سے۔ لوگ ہمارا احترام کرتے ہیں، کسی معتبر شخص نے ایسی بات نہیں کی جس میں اس جرگے کی مخالفت میں کوئی رخ ہو۔ساتھ ساتھ ہم نے ایک جرگے کا اعلان اس لیے کیا کہ بلوچ پشتون کے مسائل ایک جیسے ہیں اور ہم ان کو اکٹھا کر کے ان بحرانوں سے نکلنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ایک دفعہ ڈی ایچ اے ایکٹ کے حوالے سے ساراوان ہاﺅس میں بھی ایک جرگہ ہوا، انعقاد ہوا۔ اس میں نواب ایاز صاحب تھے، پشتون اور بلوچ معتبرین تھے۔ یہ آغا موسیٰ جان صاحب کی صدارت میں ہوا اور ہم نے جو قانون سازی کی گئی، اس کے حوالے سے کیا۔اس کے بعد ایک ہم نے سینسز کے حوالے سے بھی جرگہ منعقد کیا، تاکہ یہاں کوئی تنازع نہ ہو، پورا امن سے سینسز ہو۔ اور جرگہ امن قائم کرتا ہے، فساد نہیں ہے۔تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ خان صاحب، محمود خان صاحب نے جو جرگے کا انعقاد کیا ہے، وہ بلوچستان کے نفع میں ہو اور خصوصاً پشتون قبائل جو اپنے اپنے علاقوں میں بس رہے ہیں اور ان کے اوپر ایک بہت بڑا بحران اور خون ریزی ہو رہا ہے، اس بحران اور خون ریزی کو ختم کرنے میں ریاست کے ساتھ ایک ڈائیلاگ شروع ہوگا۔ ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ پشتون قبائل کو امن مہیا کرنے کے لیے جرگہ کارآمد ثابت ہوگا، کب کہا ہے کہ کسی بلوچ نے کہا کہ پشتون ہمارے بھائی نہیں ہیں؟ بھائی تو برابری ہوتا ہے۔ اب اس کا اور کیا مقصد وہ اس سے حاصل کرنا چاہتے ہیں، مجھے پتہ نہیں ہے۔ برابری ہے، ہم برابر ہیں۔ ایک صوبے میں رہتے ہیں، گورنر بھی ان کا آ جاتا ہے، سینئر منسٹر بھی آ جاتا ہے۔ اب کیسے ہو؟ کوئی ایسا قانون بھی نہیں ہے کہ کسی کو نیچا دکھایا یا کسی کو اوپر۔ہاں، اگر ہم کسی کے صرف جذبات سے کھیل کر پھر اپنا ٹارگٹ حاصل کریں، الگ بات ہے۔ پشتون بلوچ دونوں بھائی اور برابر ہیں۔ اس میں کبھی کوئی ایسا نہیں رہا۔ احمد شاہ ابدالی، نوری نصیر خان کا بھائی بندی تھا۔ جب میں نے آپ کو کہا، غلام احمد غبار کی کتاب میں جب بلوچ اور پشتونوں کا جرگہ اکٹھا ہوا تو گورگین کے خلاف جنگ لڑے۔ تو برابر ہیں۔آج بھی افغانستان میں جب بلوچ کا اتحاد ہوتا ہے، عموماً کسی بھی قوت کے خلاف، وہ پشتون کے ساتھ رہتا ہے۔ احمد شاہ ابدالی آٹھ مرتبہ ہندوستان گئے تو ان کے ساتھ بلوچوں کا بھی لشکر تھا۔ تو یہ تو برابری ہے۔ اب اس کے علاوہ کوئی ہو تو وہ اس کی تشریح کرے، تاکہ پھر ہم کوئی دیکھ سکیں کہ برابری کس کو کہتے ہیں۔ میں اس پر زیادہ بحث نہیں کرنا چاہتا ہوں کہ بلوچ استحصال کر رہا ہے یا نہیں کر رہا، مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب ان کے پاس دو تہائی اکثریت تھی، ڈاکٹر مالک صاحب نے حکومت میں اپنا بندہ سینئر وزیر بنایا۔ اس وقت ان کو چاہیے تھا کہ پاکستانی آئین کا جو پروسس ہے، اس کے مطابق کوئٹہ کے میر لینے کے بجائے وہ ایک قرارداد لاتے اسمبلی میں کہ جنوبی پشتونخوا بنے یا برٹش بلوچستان کو الگ کریں۔ یہ اس کا طریقہ تھا۔لیکن مسلسل اس بات کو ریپیٹ کرنا کہ ہمارا استحصال ہو رہا ہے، پھر اسی دور میں انہوں نے سردار ثناءاللہ کو بھی وزیراعلیٰ بنایا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا کوئی تعصب اور نفرت اور دوری نہیں ہے۔ بہرحال وقت کے ساتھ ساتھ شاید کسی ایک ایشو کو ایکسپلائٹ کر کے سیاسی مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں