آواران، محکمہ پی ایچ ای کی غفلت، واٹر سپلائی اسکیموں کے ورک آرڈرز التواءکا شکار، ایکسین کی طویل عدم موجودگی پر عوام پریشان

آواران (عبدالوحید شوہاز)محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) آواران کی عدم توجہی اور انتظامی غفلت کے باعث گزشتہ ماہ منظوری پانے والی مختلف علاقوں کی واٹر سپلائی اسکیموں کے ورک آرڈرز اب تک جاری نہ ہو سکے، جس کے نتیجے میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے شروع کیے جانے والے اہم منصوبے التواءکا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔مقامی ذرائع کے مطابق تمام تر طریقہ کار مکمل ہونے کے باوجود ورک آرڈرز جاری نہ ہونے کی بنیادی وجہ ایکسین (XEN) پی ایچ ای کی آواران میں مسلسل عدم موجودگی بتائی جا رہی ہے۔ متعلقہ افسر کی عدم موجودگی کے باعث اہم انتظامی امور اور عوامی منصوبوں کی فائلیں دفاتر میں گرد چاٹ رہی ہیں۔اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ایکسین پی ایچ ای اتنے دنوں سے آواران میں موجود نہیں ہیں، تو آخر اس اہم محکمہ کا چارج کس افسر کے سپرد کیا گیا ہے؟ اگر چارج کسی اور کے پاس ہے تو ورک آرڈرز کے اجرائ میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے؟علاقے میں پینے کے صاف پانی کی پہلے سے شدید قلت ہے اور نئے واٹر سپلائی منصوبوں میں تاخیر نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ متعلقہ ادارے اور افسران کی اس بے حسی کے باعث عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔عوام اور سماجی رہنماو¿ں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان، سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اپیل کی ہے کہ ایکسین پی ایچ ای کی دفتر میں موجودگی یقینی بنائی جائے اور معطل شدہ تمام واٹر سپلائی اسکیموں کے ورک آرڈرز فوری جاری کر کے کام کا آغاز کیا جائے تاکہ عوام کو درپیش تکلیف کا خاتمہ ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے