بلوچستان اسمبلی میں بلدیاتی نظام اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کی قرارداد منظور، سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے آڈٹ کی ہدایت
کوئٹہ ( آئی این پی ) اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 25منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا، جس میں اراکین اسمبلی نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال، میر قمبر مینگل کے گھر پر حملے، تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی جانچ پڑتال، اسما جتک کیس، بلدیاتی نظام، زیر زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح اور کوئٹہ میں پانی کی قلت سمیت مختلف اہم مسائل پر اظہار خیال کیا۔ اجلاس میں بلدیاتی نظام اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے متعلق قرارداد منظور کرلی گئی، جبکہ ضلع پشین میں زیر زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی اور باغات کو پہنچنے والے نقصان پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔اجلاس کے دوران رکن اسمبلی میر جہانزیب مینگل نے میر قمبر مینگل کے گھر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں کا بلوچیت سے کوئی تعلق نہیں اور وزیراعلی بلوچستان اس واقعے کا نوٹس لیں۔ وزیراعلی میر سرفراز بگٹی نے بھی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بلوچیت نہیں بلکہ دہشت گردی ہے اور دہشت گردوں کا بلوچی روایات سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچوں کو ایک لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ وزیراعلی نے ہدایت کی کہ صوبے کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کی عمارتوں کا جائزہ لیا جائے اور تعلیمی اداروں کا آڈٹ کرایا جائے۔ انہوں نے اسما جتک کیس کے حوالے سے بھی متاثرہ خاندان سے رابطے میں ہونے کا بتایا۔سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ نے پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کے بعد بلوچستان کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا جائزہ لینے پر زور دیا، جبکہ سردار عبدالرحمان کھیتران نے واقعے پر خیبرپختونخوا حکومت کی ذمہ داری کا تعین کرنے کا مطالبہ کیا۔اجلاس میں رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی کے حوالے سے توجہ دلا نوٹس پیش کرتے ہوئے سرکاری دفاتر میں اراکین اسمبلی اور عوام کو درپیش مشکلات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں ایک پرائمری اسکول کو مڈل کا درجہ دلوانے میں بھی طویل وقت لگ جاتا ہے۔ انہوں نے بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے سے متعلق قرارداد بھی پیش کی، جس میں بلدیاتی اداروں کو مالی و انتظامی خودمختاری دینے، فنڈز کی بروقت فراہمی اور بلدیاتی نمائندوں کی استعداد کار بڑھانے کے اقدامات پر زور دیا گیا۔ ایوان نے قرارداد منظور کرلی۔ضلع پشین میں زیر زمین پانی کی سطح مسلسل گرنے سے متعلق قرارداد اپوزیشن رکن اسمبلی سید ظفر آغا نے پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی کے باعث انار، سیب، انگور اور دیگر پھلوں کے باغات شدید متاثر ہو رہے ہیں، جس سے مقامی زمینداروں کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے ڈیموں کی مرمت و صفائی اور نئے ڈیموں کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔ صوبائی وزیر میر صادق عمرانی نے کہا کہ زیر زمین پانی کی سطح برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے، تاہم ڈیموں کی تعمیر کے لیے وفاقی حکومت فنڈز فراہم نہیں کر رہی۔ صوبائی وزیر ظہور بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں پانی کی صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے اور سولر نظام کے ذریعے زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال نے مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کے استعمال کو کنٹرول نہ کیا گیا تو آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشکلات پیدا ہوں گی۔اجلاس میں مشیر کھیل مینا مجید نے مند اور تمپ میں دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد غریب عوام کی گاڑیاں جلا رہے ہیں اور ان کا بلوچیت سے کوئی تعلق نہیں۔ صوبائی وزیر میر علی مدد جتک نے اسما جتک کیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے رہنا اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مبینہ نجی جیلوں اور بااثر افراد کے ظلم کے الزامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔رکن اسمبلی زرک خان مندوخیل نے کوئٹہ میں پانی کی قلت اور ٹینکر مافیا کی جانب سے عوام کو مبینہ طور پر لوٹنے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوام کو پانی سمیت بنیادی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جا سکتیں تو منتخب نمائندوں کے لیے عوام کے سامنے جانا مشکل ہو جائے گا۔ رکن اسمبلی اشوک کمار نے ایم پی اے ہاسٹل کا اچانک دورہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہاسٹل میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی موجودگی کی نشاندہی بھی کی۔اجلاس میں اراکین اسمبلی نے مختلف عوامی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ امن و امان، تعلیم، صحت، پانی کی فراہمی اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔


