بلوچستان کی سرکاری جامعات کے اساتذہ اور عملے کو تنخواہیں دی جائیں، ایچ ای گرینڈ الائنس

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان ہائر ایجوکیشن گرینڈ الائنس اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی یونیورسٹی آف بلوچستان کے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، پروفیسر حمید خان شاھ علی بگٹی، نذیر احمد لہڑی، نعمان کاکڑ، آصف بلوچ، فرید خان اچکزئی، گل جان کاکڑ، نعت اللہ کاکڑ، وقار خان، زرعی یونیورسٹی کوئٹہ کے پروفیسر عبدالرزاق بلوچ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں اس بات پر سخت تشویش اورغم و غصے کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی اکثر سرکاری جامعات خصوصاً جامعہ بلوچستان اور بیوٹمز کے اساتذہ آفیسرز اور ملازمین تاحال اس مہینے کی تنخواہوں سے محروم ہیں جبکہ پچھلے مہینے کو بھی مکمل تنخواہ ادا نہیں کی گئی تھی۔ بیان میں اس بات پر سخت افسوس کا اظہار کیا گیا کہ جامعات کے انتظامی سربراہان اساتذہ اور ملازمین کو تنخواہ دلانے کے بجائے خاموشی تماشائی بنے ہوئے ہیں جبکہ بیوٹمز کو 15 اگست تک غیر ضروری طور پر بند کیا گیا، بیان میں چانسلر و گورنر، وزیراعلیٰ بلوچستان اور حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ بیوٹمز کے وائس چانسلر کی غیر ذمہ وارانہ روئیے کا سختی سے نوٹس لے۔بیان میں کہا گیا کہ اگر جامعات کے وائس چانسلرز خصوصا بیوٹمز کے پچھلے 17 سال سے مسلط وائس چانسلر اپنے اساتذہ اور ملازمین کو انکی بنیادی حق تنخواہ کی بروقت بندوبست نہیں کرسکتے تو انکو اخلاقی طور پر یہ اہم منصب چھوڑ دینا چاہیے۔بیان میں اعلان کیا کہ مکمل تنخواہ کی بروقت ادائیگی، تعلیم وصوبہ دشمن ماڈل یونیورسٹیز ایکٹ 2022 میں ترامیم اور کالجز سمیت تعلیمی اداروں پر خدمات کی لازمی کالا قانون 2019 کے خاتمے کیلئے احتجاجی تحریک کو جلد وسعت دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں