ملالہ یوسفزئی کی افغانستان میں حملوں کی شدید مذمت


امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے عالمی جنگ بندی کی اپیل کردی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں ملالہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ہونے والے انسانیت سوز دہشت گردی کے حملوں کی خبروں نے انہیں شدید خوفزدہ کردیا ہے۔ملالہ نے لکھا کہ وہ کابل اور ننگر ہار میں ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتی ہیں جن میں خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔۔ اور ساتھ ہی انہوں نے اقوام متحدہ سے عالمگیر وبا کی صورتحال میں عالمی جنگ بندی کی اپیل کردی۔گزشتہ روز افغانستان کے دارلحکومت کابل میں بم دھماکے میں 5 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی کابل میں یکے بعد دیگرے 4 دھماکے ہوئے تھے جس کے بعد شہر کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔افغان میڈیا کے مطابق دارالحکومت کابل کے علاقے تھیہ مسکن میں بیک وقت ہونے والے چار دھماکوں سے خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔دھماکے اس وقت کیے گئے جب فوجی قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا، خوش قسمتی سے دھماکے سے کوئی اہلکار ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تاہم ایک بچے سمیت چار شہری زخمی ہوئے تھے۔ فوجی کارواں بحفاظت اپنی منزل پر پہنچ گیا۔پولیس ترجمان فردوس فرامرز نے بتایا کہ دارالحکومت کابل کے شمال میں پولیس ڈسٹرکٹ 17 میں سڑک کنارے نصب پہلا بم دھماکا پیر کی صبح 7 بج کر 45 منٹ پر ہوا تھا جس کے بعد یکے بعد دیگرے 90 منٹ کے دورانیہ میں مزید 3 دھماکے ہوئے۔اس سے قبل گزشتہ شب بھی کابل میں تین دھماکے سنے گئے تھے تاہم ان دھماکوں میں بھی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ پیر کو دھماکوں کے بعد 12 گھنٹے کے دوران ہونے والے دھماکوں کی تعداد 7 ہو گئی تھی۔قبل ازیں صوبے لغمان میں طالبان نے افغان فوج پر حملہ کر دیا تھا، جس میں 6 اہلکار ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے تھے۔ طالبان حملے کے بعد افغان فوج کا اسلحہ اور گاڑی بھی اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔