کوہلو میں سیلاب سے سینکڑوں افراد بے گھر، فصلیں تباہ، درجنوں مال مویشی ہلاک
کوہلو (انتخاب نیوز) ضلع کوہلو میں حالیہ بارشوں اور سیلاب نے ضلع میں زندگی تہس نہس کرکے رکھ دی،تفصیلات کے مطابق 14اگست سے ضلع میں پیدا ہونے والی سیلاب نے بلاول ٹاؤن،کلی جمعہ خان،اوریانی سمیت مختلف علاقوں کو اپنے لپیٹ میں لے لیا۔ضلع میں بارشوں اور سیلاب کے دوران مختلف واقعات میں 12افراد جاں بحق جبکہ 27افراد زخمی ہوئے ہیں ضلع میں نہ روکنے والے بارشوں نے سیلاب متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ضلع کی 80فیصد پر مشتمل کچے مکانات،دیواریں اور چھتیں گرگئی قومی شاہراہیں بند ہونے سے امدادی سامان بروقت نہ پہنچنے سے لوگ کئی دنوں تک کھلے آسمان تلے برستی بارش میں رہنے پر مجبور ہوگئے جس سے حکومتی دعوں کا پول کھل گیا حالیہ سیلاب ضلع میں 2010کے سیلاب سے کئی گنا زیادہ طاقت ور ثابت ہوا ہزاروں کچے مکانات منہدم سینکڑوں صفہ ہستی سے ہی مٹ گئے لوگوں کے لاکھوں روپے کی قیمتی اشیاء سیلابی ریلو ں میں بہہ کر ملیا میٹ ہوگئے جس سے لوگوں کی عمر بھر کی جمع پونچی منٹوں میں نظروں سے اجھل ہوگئے ضلع میں سیلاب کے دوران سب سے زیادہ بلاول ٹاؤن،کلی جمعہ خان،اوریانی متاثر ہوئے ہیں جہاں سیلابی ریلہ درجنوں مکانات کو اپنے ساتھ بہہ لے گیا جس سے لوگوں کو کروڑوں روپے کے نقصانات ہوئے ہیں جبکہ بعدازاں نہ روکنے والے بارشوں کی زد میں آکر کوہلو کے اکثر وبیشتر علاقے جس میں تمبو،ماوند، میر کرم خان شہر،مری کالونی،نیوکلی،پیپلز کالونی،سردار شہر،کلی چرمی،تمبیلی،گاڑداوغ،ملک زئی،لاسے زئی،سنجاڑ،گرسنی سمیت دیگر علاقوں میں ہزاروں کچے مکانات گر گئیں ہیں جس سے سینکڑوں افراد بے گھر ہوگئے ہیں کئی خاندانوں نے سر چھپانے کیلئے سرکاری عمارتوں اور اسکولوں میں پناہ لی ہوئی ہے جبکہ درجنوں افراد حکومت کی جانب سے قائم کئی گئی پناہ گاہ کیمپوں میں دن رات کاٹ رہے ہیں ضلع میں حالیہ سیلاب اور بارشوں کے دوران بروقت الرٹ کے باوجود صوبائی حکومت اور خاص کر پی ڈی ایم اے کی سست روی نے لوگوں کی مشکلا ت میں اضافہ کردیا ہے جہاں متاثرین تک بروقت خیمے اور امدادی سامان نہ پہنچے سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے مختلف علاقوں میں متاثرین کا احتجاج وقفے وقفے سے تاحال جاری ہے جہاں متاثرین کا خیمے اور امدادی سامان نہ ملنے کی شکایات زدعام ہیں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایک درجن سے زائد مقاما ت پر متاثرین نے سڑک بند کرکے اپنے احتجاج ریکارڈ کروائے ہیں ضلع کے مختلف علاقوں میں سیلابی ریلوں اور بارشوں سے شعبہ زراعت بری طرح متاثر ہوا ہے سنجاڑ،اوریانی،ملک زئی،گاڑداوغ،ٹاؤن،تمبو،ماوند،جاندران میں زمیندارں کے کروڑوں روپے کی کھڑی کپاس،مرچ،ٹماٹر سمیت دیگر فصلیں سیلابی ریلوں کا پانی داخل ہونے سے تباہ ہوگئے ہیں زرعی زمینیں سیلاب سے ملیا میٹ ہوگئے جس سے انہیں کروڑوں روپے کے نقصانات کا سامنا ہے دوسری جانب ضلع میں سیلاب کے دوران 3500سے زائد مال مویشاں بھی ہلاک ہوچکے ہیں جس سے مالداروں کی سال بھر کے ذریعہ معاش تباہ ہوا ہے کوہلو سبی قومی شاہراہ گزشتہ تین ہفتوں سے تاحال ٹریفک کی آمد و رفت کے لئے بحال نہیں ہوسکا ہے جس کے باعث جہاں ضلع کا اندرون بلوچستان اور سندھ سے زمینی رابطہ کٹ گیا ہے وہی پبلک ٹرانسپورٹ چلانے والے درجنوں ڈرائیورز بھی بے روزگار ہوگئے ہیں کوہلو کے نواحی علاقوں تھدڑی،تمبیلی،کاہان سمیت مختلف علاقوں سے تاحال زمینی رابطے بحال نہیں ہوسکے ہیں جس سے لوگوں کو آمد ورفت میں شدید مشکلات کا سامناہے جبکہ کئی علاقوں میں اشیاء خوردنوش کی قلت سے لوگ شدید پریشانی کے شکار ہیں ضلع میں صوبائی حکومت کی جانب سے متاثرین کیلئے ریلیف آپریشن کا سلسلہ بھی جاری ہے جہاں متاثرہ خاندانوں میں خیمے،خشک خوراک اور دیگر اشیاء خوردنوش فراہم کی جارہی ہیں جبکہ مختلف علاقوں میں ریلیف کیمپوں میں لوگوں کو کھانا،ادویات اور دیگر اشیاء ضروریہ فراہم کی جارہی ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں نقصانات کے سروے کا عمل بھی جاری ہے امدادی سرگرمیوں میں ضلعی انتظامیہ،لیویز اور ایف سی کے جوان شامل ہیں۔


