حکمرانوں نے مشکل حالات میں لوگوں کوبے یارومددگار چھوڑ دیا، علاقائی کمیٹی ہنہ اوڑک

کوئٹہ (انتخاب نیوز) علاقائی کمیٹی ہنہ اوڑک کے ممبران ملک نسیم کاکڑ،عجب خان،ملک محمد ایوب اور مولوی رحمت اللہ نے کہا ہے کہ بلوچستان بھر کی طرح ہنہ اوڑک میں حالیہ بارشوں اور سیلاب ریلوں کی تباہی سے11ارب روپے کے نقصانات ہوئے ہیں سیلاب زدہ ہنہ اوڑک میں انسانی المیہ جنم لے رہا ہے حکمرانوں نے مشکل ترین حالات میں لاکھوں انسانوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا ہے، باپردہ خواتین سڑکوں پر آگئیں،کھانے کیلئے روٹی، رہنے کیلئے چھت نہیں، مکانات پانی میں بہہ گئے، انفرا اسڑکچر تباہ ہوگیا ہے، لاکھوں لوگ اپنے بچوں اور بہنوں بیٹیوں کے ساتھ آسمان تلے سونے پر مجبور ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کمانڈر 12کور ہنہ اوڑک کا دورہ کرکے نقصانات کا خود جائزہ لیں اور متاثرہ عوام کی داد رسی کریں۔ یہ بات انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی،انہوں نے کہاکہ سیلاب اور طوفانی بارشوں سے ہمارا علاقہ مکمل طورپر تباہ ہوچکا ہے باغات فصلات بجلی گیس اور موبائل نیٹ ورک کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے ساتھ میں مکانات بھی منہدم ہو گئے ہیں ایک شخص شہید جبکہ کئی افراد کو بے گھر ہوکر کھلے آسمان تلے زندگی گزانے پر مجبور ہیں،انہوں نے کہاکہ ہم کمانڈر12کور لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستا ن کے وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کو ساتھ لیکر ہمارے پاس آجائے او ر ہنہ اوڑک کی تباہی اور بربادی کو دیکھ کر اس کی مناسبت سے ہمارے علاقے کی عوام کی داد رسی کریں جس پر ہم ان کے شکر گزار ہوں گے بلکہ عوام کی حوصلہ افزائی بھی ہوجائے گی،انہوں نے کہاکہ حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں نے وادی ہنہ اوڑک سمیت بلوچستان بھر میں تباہی مچادی ہے اور بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں سیلاب متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی گزانے پر مجبور ہیں متاثرین کی داد رسی کیلئے وفاقی صوبائی حکومتیں اور متعلقہ ادارے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائیں اور ان کو ریلیف فراہم کریں،ان حالات میں کرسی کی جنگ میں مصروف سیاسی جماعتیں سیلاب متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑک رہی ہیں سیاست اور ذاتی اختلافات کو بھلا کر عوام کو ریلیف فراہم حکومت عالمی ڈونرز سمیت سب کو آگے آنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ مون سون کی بارشوں کے سبب پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال سے بلوچستان کا بڑا حصہ تباہی و بربادی کی تصویر بنا ہوا ہے اور ہنہ اوڑک میں بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں جس کے ازالے کیلئے حکومت کی جانب سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت کو چاہئے کہ وہ ہنہ اوڑک کے عوام کی بحالی کیلئے عملی اور ہنگامی طور پر اقدامات اٹھاتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کریں انہوں نے کہاکہ سیلاب زدہ ہنہ اوڑک میں انسانی المیہ جنم لے رہا ہے حکمرانوں نے مشکل ترین حالات میں لاکھوں انسانوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیاہے،باپردہ خواتین سڑکوں پر آگئیں،کھانے کیلئے روٹی، رہنے کیلئے چھت نہیں، مکانات پانی میں بہہ گئے،انفراسڑکچر تباہ ہو گیا ہے، لاکھوں لوگ اپنے بچوں اور بہنوں بیٹیوں کے ساتھ کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور ہیں انہوں نے کہاکہ 24اور25اگست کو سیلاب نے ہنہ اورک کا انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ کردیا ہمارے لوگو ں کے روزگار کا دارومدار باغات پر تھا جو مکمل طور پر ختم ہو کررہ گیا ہے ملکی اکانومی میں معدنیات اور پھل کی صورت میں ہمارا بھرپور حصہ رہا ہے ہم نے علاقے کی بحالی کیلئے ایک علاقائی کمیٹی بنائی اور ہنہ اورک میں اس کا ایک کیمپ آفس قائم کیا تمام ادارے اور مخیر حضرات ہمارے ساتھ تعاون کریں ہنہ اورک میں اسے طرز عمل اور رویہ سے اجتناب کریں جس سے ہمارے لوگ خدانخواستہ بھکاری نہ بن جائے سردی کی آمد ہے ہمارے علاقے میں جلد سردی شروع ہوتی ہے سردی آنے سے پہلے گیس و بجلی کا نظام بحال کیا جائے علاقے میں سیر وتفریح و سیاحت کیلئے آنے لوگ فی الحال آنے کی زحمت نہ کریں سڑک تباہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی آمدروفت میں مشکلات ہے انہوں نے کہاکہ ہم گورنر بلوچستانوزیراعلی بلوچستانکورکمانڈرآئی جی ایف سیصوبائی حکومتیں این ڈی ایم ایپی ڈی ایم ایدیگر متعلقہ ادارے اور عالمی ڈونر فی الفور ہنہ اورک کے سیلاب متاثرین کے نقصانات کے ازالے کیلئے عملی اقدامات کرے انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ ہنہ اورک کے سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی کیلئے حکومت، مخیر حضرات، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ڈونر ایجنسیوں، انٹر نیشنل این جی اوز کو آگے بڑھ کر اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں