امریکی کمپنیاں پاکستان میں موسمیاتی اثرات سے بچاﺅ کیلئے سرمایہ کاری کریں ،مسعود خان
واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے کہا ہے کہ امریکی کمپنیاں پاکستان میں موسمیاتی اثرات سے بچاﺅ کیلئے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کریں، تجارت کے شعبہ میں مضبوط پاک امریکہ شراکت داری پاکستان میں حالیہ بحران کو امریکی کاروباری کمیونٹی کیلئے موقع میں بدل سکتی ہے کہ وہ ایسے گرین اور موسمیاتی موافق انفراسٹرکچر کی تعمیر میں سرمایہ کاری کریں جو کہ مستقبل میں قدرتی آفات کا مقابلہ کر سکے۔مسعود خان نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ سیلاب اور امریکی ریاست فلوریڈا اور اسکے ملحقہ ریاستوں میں سمندری طوفان نے دونوں ممالک کی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ان خیالات کا اظہار سفیر پاکستان نے صدر یو ایس چیمبر آف کامرس سوزین کلارک سے چیمبر کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سفیر پاکستان مسعود خان نے فلوریڈا اور ملحقہ ریاستوں میں سمندری طوفان سے ہونے والی تباہی پر بھی افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا۔سفیر پاکستان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کیلئے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں بروقت سرمایہ کاری سے نہ صرف ہمارے مستقبل کو محفوظ بنانے میں مدد ملے گی بلکہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے عالمی نقل مکانی، غذائی تحفظ کے بحرانوں اور دیگر کئی چیلنجز کا مقابلہ بھی کیا جاسکے گا۔مسعود خان نے کہا کہ امریکہ سالہا سال سے پاکستان کا اہم اقتصادی اور تجارتی شراکت دار رہا ہے، دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے اور حکومت کی جانب سے پالیسی سپورٹ فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے ۔پاکستان میں منافع بخش امریکی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا کہ پاکستان کا تذویراتی محل وقوع، ٹیکنالوجی کے استعمال پر عبور رکھنے والی نوجوان آبادی، متوسط طبقے کی بڑی تعداد ، پاکستان کے ٹیک سیکٹر کی غیر معمولی ترقی اور خصوصی اقتصادی زونز امریکی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے زبردست مواقع فراہم کرتے ہیں۔مسعود خان نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 12 ارب ڈالر سے تجاوز کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ موجودہ حجم میں اضافے کی خاطرخواہ گنجائش موجود ہے۔سفیر پاکستان نے کہا کہ امریکی کارپوریٹ سیکٹر پاکستان میں اپنی مصنوعات تیار کرکے انہیں مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور شمالی افریقہ تک برآمد کرکے منافع حاصل کرسکتا ہے۔مسعود خان نے یو ایس سی سی کی صدر کو بتایا کہ موجودہ حکومت نے ٹیک سٹارٹ اپس کو فروغ دینے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی ہے۔مسعود خان نے کہا کہ موجودہ حکومت غیر ملکی اور مقامی نجی شعبے کو درپیش مسائل کو دور کرنے اور انہیں سہولیات دینے کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ انہیں اپنے کاروبار کو بڑھانے کےلئے سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔سفیر پاکستان نے یو ایس سی سی پر زور دیا کہ چیمبر اپنی رکن کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی حوصلہ افزائی کرے جو خاص طور پر بحالی اور تعمیر نو کے مرحلے کے دوران کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ اس موقع پر صدر یو ایس چیمبر آف کامرس سوزین کلارک نے بھی کہا کہ پاکستان اپنے منفرد اسٹریٹجک محل وقوع، سکیورٹی کی بہتر صورتحال خاص طور پر ٹیکنالوجی سے لیس نوجوان آبادی کی بدولت امریکی کمپنیوں کے لیے ایک پرکشش مقام ہونا چاہیے۔سوزین کلارک نے پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان پر دکھ کا اظہار کیا جس کی وجہ سے ملک کے ایک تہائی حصے میں فصلیں اور انفراسٹرکچر ملیا میٹ ہو گیا۔


